LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں اسرائیلی حملے تیز، حماس معاہدے کے باوجود درجنوں شہید

News Image
امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے مبینہ اہم معاہدے اور حماس کے ہتھیار ڈالنے کی خبروں کے باوجود غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مزید شدت آ گئی ہے۔ ان حالیہ اور وحشیانہ فضائی حملوں کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے ایک مبینہ تاریخی اور اہم سمجھوتوں کے باوجود، جس میں حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، غزہ کی پٹی پر اسرائیلی افواج کے فضائی اور زمینی حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس اور مقامی ذرائع کے مطابق، اس مبینہ پیشرفت کے فورا بعد اسرائیل نے غزہ کے مختلف علاقوں پر اندھا دھند بمباری شروع کر دی، جس کے نتیجے میں ایک بار پھر معصوم فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان تازہ اور وحشیانہ حملوں کے دوران دجنوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ یہ معاہدہ جسے بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک بڑی کامیابی اور 'بریک تھرو' کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا، زمینی حقائق کے بالکل برعکس ثابت ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے سمجھوتوں سے خطے میں دیرپا امن کے قیام کی امیدیں تو بندھائی جاتی ہیں، لیکن عملاً اسرائیل کی جانب سے جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری رہتا ہے۔ غزہ کے رہائشی پہلے ہی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور ادویات کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، اور اس تازہ فوجی کارروائی نے انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس سے بین الاقوامی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔ فلسطینی حکام اور دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ جنگ بندی یا ہتھیار ڈالنے کے دعوے محض کاغذی کارروائی ثابت ہو رہے ہیں جبکہ عام شہریوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لیں اور اسرائیل کو حملے روکنے کے لیے مجبور کریں۔ دوسری طرف، خطے میں جاری اس لامتناہی کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کے امن عمل کو ایک بار پھر خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں سفارتی کوششیں زمینی بمباری کے شور میں دب کر رہ گئی ہیں۔