World
کولمبیا کے صدر کا اقتدار چھوڑنے سے قبل انتخابی دھاندلی کا الزام
کولمبیا کے صدر نے اقتدار کی منتقلی سے چند روز قبل ایک بار پھر انتخابی دھاندلی کے الزامات دہرائے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ پروگرامرز نے ووٹوں کی گنتی میں ردوبدل کیا اور انتخابات سے جڑا ڈیٹا چھپایا گیا۔
کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے اپنے منصب سے سبکدوش ہونے اور اقتدار دوسرے رہنما کے حوالے کرنے سے صرف چند روز قبل ایک بار پھر انتخابی دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے اپنے حالیہ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران پروگرامرز نے مبینہ طور پر ووٹوں کی گنتی میں ردوبدل کیا اور انتخابی نتائج سے وابستہ میٹا ڈیٹا کو جان بوجھ کر جائزہ لینے والوں سے پوشیدہ رکھا گیا۔ ان الزامات نے ملکی سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے اور اس حوالے سے بحث کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
صدر پیٹرو کی جانب سے یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ اپنی مدت صدارت کے آخری ایام گزار رہے ہیں اور ملک میں اقتدار کی پُرامن منتقلی کی تیاریاں جاری ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتخابی شفافیت کو یقینی بنانا جمہوریت کی بقا کے لیے انتہائی ضروری ہے اور ماضی کے انتخابی عمل میں مبینہ بے قاعدگیوں کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج کے پیچھے چھپائے گئے حقائق اور ڈیجیٹل شواہد کو سامنے لانا ملک کے آئینی نظام کی ساکھ کے لیے ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی واقعے کی روک تھام کی جا سکے۔
دوسری جانب، سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کا ماننا ہے کہ اقتدار کی تبدیلی کے اس نازک موڑ پر اس قسم کے بیانات ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اگرچہ صدر پیٹرو کے پاس اپنے دعوؤں کی تائید میں مختلف تکنیکی پہلو موجود ہیں، تاہم اس سے قبل کے انتخابی کمیشن اور دیگر اداروں نے ان الزامات کی تردید یا ان پر مختلف وضاحتیں پیش کی ہیں۔ اس تنازع نے کولمبیا کے عوام اور سیاسی جماعتوں کے درمیان انتخابی نظام پر اعتماد اور اصلاحات کی ضرورت کے حوالے سے بحث کو مزید گرما دیا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔