World
ٹرمپ بورڈ آف پیس کی اسرائیل کو یقین دہانی اور غزہ انخلاء کی نئی صورتحال
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو یقین دہانی کرائی ہے کہ غزہ سے اسرائیلی انخلاء حماس کی مکمل غیر مسلح کاری کے بعد ہی عمل میں آئے گا۔ یہ اقدام تل ابیب کی جانب سے غزہ کے مجوزہ انخلاء کے منصوبے پر اعتراضات اٹھائے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس نے پیر کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو واضح یقین دہانی کرائی ہے کہ غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کا انخلاء صرف اسی صورت میں شروع ہوگا جب حماس مکمل طور پر غیر مسلح ہو جائے گی۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب تل ابیب کی جانب سے بورڈ کی جانب سے جاری کردہ ایک ایسے متن پر سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا جس میں مرحلہ وار اسرائیلی انخلاء کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ نیتن یاہو کی سیکورٹی کابینہ کے دو اراکین نے ٹرمپ کی تائید والے معاہدے کو مسترد کرنے کے لیے فوری ووٹنگ کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے امریکی حکام کے سامنے اپنے تحفظات باضابطہ طور پر اٹھائے ہیں۔ دوسری جانب، بورڈ آف پیس کے غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نکولائی ملاڈینوف نے پیر کے روز بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی جسے انہوں نے انتہائی پیچیدہ لیکن ضروری عمل قرار دیا۔ ملاقات کے بعد بورڈ نے جاری کردہ بیان میں کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مشترکہ اہداف اور مقاصد پر مکمل اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ زرد لائن سے परे انخلاء، جو کہ اس علاقے کی نشاندہی کرتی ہے جہاں حماس کا اب بھی اثر و رسوخ ہے، صرف اسی وقت ہوگا جب ثالثوں سے کیے گئے معاہدے کے مطابق حماس کے ہتھیاروں کا خاتمہ مکمل ہو جائے۔ ادھر حماس نے پیر کی دیر رات جاری کردہ اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کے حوالے سے طے پانے والے تمام نکات پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ وہ ثالثوں اور ملاڈینوف کی جانب سے ایک واضح اور سرکاری ردعمل کی منتظر ہے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جا سکے۔ دوسری طرف، غزہ میں جاری کشیدگی اور حملوں کے دوران پیر کی شام مغربی غزہ شہر میں ایک گاڑی پر اسرائیلی فضائی حملے میں دو فلسطینی جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے، جب کہ قطر، مصر اور ترکی نے تازہ اسرائیلی بمباری پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے جاری خلاف ورزیوں کا حصہ قرار دیا ہے۔