LIVE
Loading Breaking News...

پاکستانی فلم گھوسٹ سکول کو سندھ میں سینسر سرٹیفکیٹ نہ مل سکا

News Image
بین الاقوامی سطح پر پزیرائی حاصل کرنے والی پاکستانی فلم 'گھوسٹ سکول' کو سندھ کے سنسر بورڈ نے نمائش کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ فلم سازوں نے اس فیصلے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر مختلف میلوں اور تقریبات میں پذیرائی حاصل کرنے والی معروف پاکستانی فلم 'گھوسٹ سکول' کو سندھ کے سنسر بورڈ کی جانب سے نمائش کا سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد فلمی حلقوں، ہدایت کاروں اور شائقینِ سینما میں شدید مایوسی اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ اس فلم کو پہلے ہی عالمی سطح پر کافی سراہا جا چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق سندھ سنسر بورڈ نے فلم کے مواد اور موضوعاتی پہلوؤں پر کچھ اعتراضات اٹھائے ہیں، جس کی بنیاد پر اسے تاحال سندھ بھر میں سنیما گھروں میں ریلیز کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ فلم کے تخلیق کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کہانی معاشرے کی ایک اہم حقیقت اور تعلیمی نظام کے مسائل کو اجاگر کرتی ہے، اور اس پر پابندی لگانا یا اس کی نمائش روکنا فنکارانہ آزادی کے منافی ہے۔ فلمی نقادوں کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے فیصلوں سے پاکستان کی ابھرتی ہوئی فلم انڈسٹری کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، جو پہلے ہی مالی اور انتظامی مشکلات کا شکار ہے۔ ہدایت کاروں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کریں تاکہ معیاری سنیما کو فروغ مل سکے اور بین الاقوامی سطح پر نام کمانے والے فنکاروں کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔ 'گھوسٹ سکول' کے معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی بحث شروع ہو چکی ہے جہاں شائقین اور سول سوسائٹی کے ارکان سنسر بورڈ کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ فلم ساز اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے قانونی اور انتظامی سطح پر مزید اقدامات اٹھائیں گے تاکہ اس اہم موضوع پر مبنی فلم کو پاکستانی ناظرین تک بھی پہنچایا جا سکے۔