World
خلیجی ممالک کی دفاعی خود مختاری: پچاس سالہ انحصار کا خاتمہ
خلیجی ممالک نے بیرونی سکیورٹی ضمانتوں کے محدود اثرات کو دیکھتے ہوئے اپنی دفاعی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کا آغاز کر دیا ہے۔ ایران کے حالیہ حملوں نے خطے کو اپنے بل بوتے پر ایک خود مختار سکیورٹی ڈھانچہ بنانے کی اشد ضرورت کا احساس دلایا ہے۔
خلیجی خطے کے ممالک نے پچاس سال سے جاری اپنے روایتی بیرونی سکیورٹی انحصار کو آہستہ آہستہ ختم کرنے کی ایک خاموش لیکن مؤثر مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ ماضی میں خطے کی سلامتی کے لیے بڑی طاقتوں اور بیرونی ضمانتوں پر انحصار کیا جاتا تھا، تاہم حالیہ جی پولیٹیکل کشیدگی اور ایران کے حملوں نے اس نظام کی کمزوریوں کو کھل کر عیاں کر دیا ہے۔ ان واقعات نے خلیجی دارالحکومتوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ بیرونی سکیورٹیگارنٹیوں کی اپنی حدود ہیں اور وقت آ گیا ہے کہ خطے کے مسائل کا حل خطے کے اندر ہی تلاش کیا جائے۔ ماہرین کے مطابق، یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ پچھلے کچھ عرصے سے سفارتی سطح پر اس کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں۔ خلیجی ممالک اب اپنی معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ دفاعی خودمختاری کو بھی اولین ترجیح دے رہے ہیں۔ اس نئی حکمت عملی کے تحت، باہمی تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے اور روایتی حریفوں کے ساتھ بھی سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ خطے میں کسی بھی قسم کے بڑے تصادم کو روکا جا سکے۔ اس حوالے سے ایک نیا خلیجی سکیورٹی آرکیٹیکچر تشکیل دینے کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے جس کا مقصد کسی بھی بیرونی مداخلت کے بغیر علاقائی امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ خطے کے رہنماؤں کا یہ مؤقف بنتا جا رہا ہے کہ پائیدار امن صرف باہمی تعاون اور خودمختار دفاعی صلاحیتوں کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس نئی سمت میں اٹھائے جانے والے اقدامات آنے والے برسوں میں مشرق وسطیٰ کی سیاست اور سلامتی کے نقشے کو یکسر بدل کر رکھ سکتے ہیں، جس سے عالمی طاقتوں کا اس خطے پر اثر و رسوخ بھی کم ہونے کا امکان ہے۔