LIVE
Loading Breaking News...

اٹلی اسپین سفری پابندی، شینگن زون بحران، یورپی یونین خبریں

News Image
اٹلی کی جانب سے اسپین کے ساتھ سرحدی آزادانہ نقل و حرکت معطل کیے جانے کے بعد ماہرین نے اسے عملی کے بجائے ایک سیاسی قدم قرار دیا ہے۔ حالیہ پرتشدد سرحد عبور کرنے کے واقعے کے بعد یورپی یونین کے شینگن زون کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اٹلی کی جانب سے اسپین کے ساتھ سرحد پار آزادانہ نقل و حرکت کو عارضی طور پر معطل کیے جانے کے فیصلے نے پورے یورپ میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ یہ قدم ایک ہلاکت خیز بارڈر کراسنگ کے واقعے کے فوراً بعد اٹھایا گیا ہے جس نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور سرحدی انتظامات کو چیلنج کر دیا ہے۔ اس اقدام کو لے کر بین الاقوامی تعلقات اور سرحدی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عملی مسائل کے حل سے زیادہ ایک سیاسی مقصد کے تحت اٹھایا گیا معلوم ہوتا ہے۔ مبصرین کے مطابق، یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور بارڈر فری ٹریول کا تصور خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں مہاجرین کی آمد اور سرحدی سیکیورٹی کے معاملات پر یورپی ممالک کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔ سیوطہ کے مقام پر پیش آنے والے اندوہناک واقعے کے بعد، جہاں متعدد افراد کی ہلاکتیں ہوئیں، اٹلی نے اپنی داخلی سلامتی اور سرحدی کنٹرول کو سخت کرنے کے لیے یہ سخت قدم اٹھایا ہے۔ اطالوی حکام کا مؤقف ہے کہ یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کا دفاع انتہائی ضروری ہے اور اگر بعض ممالک اس معاملے پر کمزوری دکھاتے ہیں تو دیگر ممبران کو اپنے تحفظ کے لیے یکطرفہ فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ تاہم، اسپین اور دیگر حامی ممالک نے اس فیصلے کو یورپی اقدار اور شینگن معاہدے کی روح کے منافی قرار دیا ہے۔ شینگن زون جو کہ یورپ کے اندر بغیر پاسپورٹ کے سفر کی آزادی کی علامت سمجھا جاتا ہے، اس وقت تاریخی بحران سے گزر رہا ہے۔ اس معاہدے کے تحت لاکھوں شہری روزانہ بلا رکاوٹ ایک ملک سے دوسرے ملک سفر کرتے ہیں، لیکن حالیہ پابندیوں اور سرحدی چیکنگ کی بحالی نے اس نظام کی بقا پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یورپی یونین کے رہنماؤں نے فوری طور پر کوئی متفقہ لائحہ عمل طے نہ کیا، تو اس طرح کے یکطرفہ اقدامات سے دوسرے ممالک بھی متاثر ہوں گے اور شینگن زون کا پورا ڈھنہ درہم برہم ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال نے یورپی یونین کے پالیسی سازوں کو بھی شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ تارکین وطن کے انتظام اور سرحدی سلامتی کے حوالے سے ایک جامع اور متوازن حکمت عملی کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جو نہ صرف انسانی حقوق کا احترام کرے بلکہ رکن ممالک کی قومی سلامتی کے خدشات کو بھی دور کر سکے۔ آنے والے دنوں میں یورپی کمیشن اور متعلقہ ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات متوقع ہیں جن میں اس بحران کا کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ شینگن زون کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔