World
فلسطینی مریضوں کی غزہ واپسی اور انخلاء کے انتظامات
بیرون ملک طبی علاج مکمل کرنے والے فلسطینی مریض طویل جدائی کے بعد اپنے وطن غزہ واپس لوٹ آئے ہیں۔ تاہم، غزہ میں اب بھی ہزاروں افراد علاج کی غرض سے باہر جانے کے لیے شدید انخلاء کے منتظر ہیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، وہ فلسطینی مریض جو سنگین بیماریوں اور زخموں کے علاج کے لیے بیرون ملک گئے تھے، علاج کی تکمیل کے بعد اب اپنے وطن غزہ واپس لوٹ آئے ہیں۔ یہ واپسی کئی سال کی طویل جدائی اور انتہائی کٹھن حالات کے بعد عمل میں آئی ہے، جس سے نہ صرف ان مریضوں بلکہ ان کے اہلِ خانہ کے لیے بھی ایک جذباتی اور طمانیت کا لمحہ پیدا ہوا ہے۔ طویل عرصے تک اپنوں سے دور رہنے والے یہ افراد اب اپنے گھروں میں اپنے پیاروں کے ساتھ دوبارہ یکجا ہو گئے ہیں۔
تاہم، اس خوشی کے باوجود غزہ کی مجموعی طبی صورتحال تاحال انتہائی ابتر اور تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ زمینی ذرائع کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں ایسے فلسطینی مریض موجود ہیں جو شدید بیماریوں، جنگی زخموں اور دیگر طبی پیچیدگیوں میں مبتلا ہیں اور وہ فوری طور پر بیرون ملک علاج کے لیے انخلاء کے منتظر ہیں۔ غزہ کے اندر ناکافی طبی سہولیات، ادویات کی شدید قلت اور تباہ شدہ ہسپتالوں کی وجہ سے مقامی ڈاکٹرز ان شدید مریضوں کا علاج کرنے سے قاصر ہیں، جس کی وجہ سے ان کا باہر جانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور طبی امدادی اداروں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ غزہ سے مریضوں کے انخلاء کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ ان تنظیموں نے عالمی برادری اور بااثر ممالک سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس انسانی بحران کا فوری نوٹس لیں اور مریضوں کے محفوظ انخلاء کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کو یقینی بنائیں۔ بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے ہزاروں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ چکی ہیں اور فوری امدادی راہداریوں کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔