LIVE
Loading Breaking News...

آزاد کشمیر انتخابات: مظفرآباد میں پولنگ اور پی پی پی کے دھاندلی کے الزامات

News Image
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مظفرآباد کے دو حلقوں میں پولنگ کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر سخت دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان وفاق میں اتحاد کے باوجود انتخابی عمل پر لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔
اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے سلسلے میں مظفرآباد کے دو حلقوں میں منگل کے روز پولنگ کا عمل جاری رہا، جس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے انتخابی عمل میں ایک بار پھر دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کیے۔ یاد رہے کہ دو اگست کو طے شدہ شیڈول کے مطابق خراب موسم اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند راستوں کی وجہ سے ایل اے 27 مظفرآباد-I (کوٹلہ) اور ایل اے 28 مظفرآباد-II (لچھراٹ) کے 74 میں سے 71 پولنگ سٹیشنوں پر پولنگ ملتوی کر دی گئی تھی، جو اب منعقد کی جا رہی ہے۔ آزاد کشمیر میں سیکیورٹی خدات کے پیش نظر انتخابات تین مراحل میں کرائے جا رہے ہیں، جن کے تحت پہلا مرحلہ میرپور ڈویژن میں 27 جولائی کو منعقد ہوا تھا جس میں مسلم لیگ ن نے کامیابی حاصل کی تھی۔ منگل کے روز پولنگ کے دوران پیپلز پارٹی نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر الیکشن کمیشن کو بھیجی گئی شکایات شیئر کیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ ایل اے 27 کوٹلہ کے یونین کونسل بھیری میں پولنگ عملے کو مسلم لیگ ن کے حامی کے گھر سے سرکاری بیلٹ پیپرز اور پولنگ بیگز کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ پارٹی کی مرکزی رہنما شیری رحمان نے بھی ان الزامات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ویڈیوز الیکشن کمیشن کو ثبوت کے طور پر پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم الیکشن کمیشن کے ایک ذمہ دار افسر کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر موصول ہونے والی ویڈیوز مبہم ہیں اور جب تک ان کی فرانزک جانچ نہیں کی جاتی، انہیں حتمی ثبوت نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ پی پی پی نے بیلٹ باکس میں بوگس ووٹ ڈالنے اور ووٹرز کو پولنگ سٹیشنوں تک پہنچنے سے روکنے کی بھی شکایات درج کروائیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے انتخابی رابطہ کار اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پیپلز پارٹی کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ شکست پر واویلا کرنے کے بجائے سیاسی بصراحت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے پونچھ ڈویژن کے تیسرے مرحلے کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کی اب تک کی شاندار کامیابیاں وفاقی و پنجاب حکومتوں کی بہترین کارکردگی پر عوام کے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام نے ترقی اور خوشحالی کے حق میں ووٹ دیا ہے اور امید ظاہر کی کہ تیسرے مرحلے میں بھی ن لیگ کلینsweep کرے گی۔ ادھر پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان کی پارٹی کی جانب سے عوامی حقوق اور حکمرانی کی جدوجہد پورے ملک تک پھیلائی جائے گی۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے اور عوام اپنے حقوق کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔ دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان آزاد کشمیر کے ان انتخابات کے نتائج اور انتخابی مہم کے دوران پیدا ہونے والی کشیدگی نے سیاسی گرمی میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ تیسرے مرحلے کے تحت پونچھ ڈویژن کے 11 حلقوں میں 10 اگست کو پولنگ متوقع ہے۔