Pakistan
کراچی: ایم کیو ایم پاکستان دفتر فائرنگ کیس، تاحال گرفتاریاں نہیں ہوئیں
کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز پر دو گروہوں کے درمیان تصادم اور فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس نے تاحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا اور نہ ہی کسی کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر کے مندرجات تیار کر لیے گئے ہیں اور اعلیٰ حکام کی ہدایات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
کراچی کے علاقے بہادر آباد میں واقع متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) کے مرکز پر ہونے والے تصادم اور فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس نے تصدیق کی ہے کہ تاحال اس معاملے میں کوئی باضابطہ مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اتوار کی شام پیش آنے والے اس واقعے میں دو حریف گروہوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا جس کے نتیجے میں فائرنگ کے دوران ایک شخص زخمی ہو گیا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق مصطفیٰ کمال اور انیس قائمخانی کے حامیوں مبینہ طور پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی گروہ کے مخالفین کو پارٹی ہیڈ کوارٹر سے تشدد کے بعد باہر نکال دیا۔ اس دوران مرکز کے اندر اور باہر شدید فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں جس کی زد میں آکر عامر علی نامی شخص گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔ واقعہ کے بعد الیکٹرانک میڈیا پر دونوں گروہوں کے کئی کارکنوں کی گرفتاری کی خبریں گردش کرتی رہیں، تاہم ایک سینئر پولیس افسر نے واضح کیا کہ تاحال کسی کو باضابطہ طور پر حراست میں نہیں لیا گیا ہے۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ واقعے کی ایف آئی آر کے مندرجات تیار کر لیے گئے ہیں لیکن پولیس قانونی کارروائی کو آگے بڑھانے کے لیے اعلیٰ حکام کی منظوری اور ہدایات کی منتظر ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے ان خبروں کی بھی تردید کی جن میں کہا جا رہا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے بہادر آباد ہیڈ کوارٹر کو سیل کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کو سیل نہیں کیا گیا البتہ علاقے میں خوف و ہراس کی فضا کے پیش نظر پولیس گشت اور نفری میں اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ مقامی رہائشیوں کو تحفظ کا احساس دلایا جا سکے، کیونکہ شدید فائرنگ کے واقعے کے بعد سے محلے کے لوگ سخت خوفزدہ ہیں۔