LIVE
Loading Breaking News...

بلوچستان میں صحافت کے چیلنجز اور صحافیوں کو درپیش سکیورٹی خطرات

News Image
بلوچستان میں صحافیوں کے لیے آزادانہ رپورٹنگ کرنا انتہائی خطرناک مشن بن چکا ہے جہاں جان سے مارنے کی دھمکیاں اور قاتلانہ حملے معمول ہیں۔ صوبے میں سال 2008 سے اب تک درجنوں صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ ایک بھی قاتل کو سزا نہیں مل سکی۔
بلوچستان کے دور دراز اضلاع میں صحافت کرنا کسی جان جوجو میں ڈالنے والے کھیل سے کم نہیں ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں کام کرنے والے رپورٹرز کو اکثر نامعلوم نمبروں سے سنگین نتائج کی دھمکیاں ملتی ہیں، یہاں تک کہ بعض اوقات طنزیہ طور پر کفن پہلے سے بھیجنے کی پیشکش کی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کے احتجاج اور حساس نوعیت کے معاملات کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے لیے اپنے فرائض انجام دینا موت کو گلے لگانے کے مترادف بن چکا ہے۔ کلات اور قلات جیسے اضلاع میں صحافیوں کے لیے ماحول اس قدر پُرتشدد ہو چکا ہے کہ لوگ اب کھل کر بولنے سے کتراتے ہیں۔ حال ہی میں اس کی المناک مثال آواران کے علاقے مشکی میں سامنے آئی جہاں روزنامہ انتخاب اور آج ٹی وی سے وابستہ صحافی عبدالطیف بلوچ کو گھر سے اٹھا کر للکارنے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ ان کے خاندان کے مطابق اس واقعے سے کچھ ماہ قبل ان کے بیٹے کو بھی اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ اس طرح کے سانحات کے باوجود متعلقہ پولیس اسٹیشنز میں ایف آئی آر کا اندراج تک مشکل ہوتا ہے اور اکثر تھانوں کے ریکارڈ تک جلائے جا چکے ہوتے ہیں۔ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے مطابق سال 2008 سے اب تک صوبے میں 42 سے زائد صحافیوں کو ہدف بنایا جا چکا ہے اور حیرت انگیز طور پر ایک بھی قاتل کو عدالت سے سزا نہیں مل سکی ہے۔ سکیورٹی خدشات کے باعث بہت سے ضلعی رپورٹرز اپنے نام ظاہر کیے بغیر کام کرنے پر مجبور ہیں یا پھر انہوں نے خبروں سے گریز کا راستہ اپنا لیا ہے۔ کوئٹہ کے بعد خضدار اور دیگر اضلاع میں صحافیوں کی قبریں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ یہاں سچ بولنا کتنا مہنگا سودا ہے۔ صحافتی تنظیمیں طویل عرصے سے حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ بلوچستان میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے بل پاس کیا جائے، جس میں ان کی زندگی کی انشورنس، فلاح و بہبود اور ہنگامی حالات کی ٹریننگ کو یقینی بنایا جا سکے۔ دوسری جانب، بلوچستان کے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا کی طویل بندش نے بھی صحافیوں کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ پنجگور اور ڈیرہ بگٹی سمیت مختلف اضلاع میں مواصلاتی نظام کی بندش کے باعث خبروں کی بروقت ترسیل ناممکن ہو جاتی ہے۔ پرنٹ میڈیا سرکاری اشتہارات پر انحصار کرتا ہے جبکہ ٹیلی ویژن کی ترسیل زیادہ تر کوئٹہ تک محدود ہے۔ ایسے گھٹن زدہ ماحول میں بلوچستان کے سچے صحافی اپنی جان کی بازی لگا کر خبر کو دنیا تک پہنچانے کی جدوجہد مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔