Pakistan
نیب ریکوریز 2026: قومی احتساب بیورو نے ریکارڈ 5.4 ٹریلین روپے وصول کرلئے
قومی احتساب بیورو (نیب) نے سال 2026 کے پہلے چھ مہینوں کے دوران ریکارڈ 5.4 ٹریلین روپے کی ریکوری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بیورو کے مطابق صرف دوسری سہ ماہی میں دو ہزار چار سو باون ارب روپے وصول کیے گئے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے مالیاتی بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف کارروائیوں میں ایک سنگ میل عبور کرتے ہوئے سال 2026 کے پہلے نصف حصے میں مجموعی طور پر 5.4 ٹریلین روپے کی ریکارڈ وصولیاں کی ہیں۔ نیب کے ذرائع کے مطابق یہ ملک کی تاریخ میں کسی بھی نصف سالانہ عرصے میں کی جانے والی سب سے بڑی ریکوریز میں سے ایک ہے، جس نے قومی خزانے کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بیورو کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کے اس ابتدائی دورانیے میں بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقوم کی واپسی کے لیے سخت ترین اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
صرف سال 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران نیب نے دو ہزار چار سو باون ارب روپے (2,452 بلین روپے) کی خطیر رقم کامیابی کے ساتھ ریکور کی۔ اس بڑی کامیابی نے پہلے چھ مہینوں کے مجموعی ہدف کو ریکارڈ ساز سطح پر پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ نیب حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام تر وصولیاں شفاف عدالتی کارروائیوں اور پلی بارین (Plea Bargain) جیسے قانونی راستوں کے ذریعے عمل میں لائی گئیں، جن کا مقصد قومی دولت کو لوٹنے والوں کو کٹہرے میں لانا اور متاثرہ اداروں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
معاشی ماہرین نے نیب کی جانب سے اتنی بڑی رقم کی وصولی کو ملکی معیشت کے لیے ایک خوش آئند قدم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں فنڈز کی قومی خزانے میں واپسی سے ملکی معاشی استحکام کو تقویت ملے گی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوگی۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی طرف سے بھی نیب کی کارکردگی کو سراہا گیا ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ کرپشن کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
نیب کے ترجمان نے مزید بتایا کہ ادارے کا بنیادی فوکس ملک سے کرپشن کا خاتمہ اور لوٹی ہوئی قومی دولت کی پائی پائی کا حساب لینا ہے۔ اس ریکارڈ کامیابی کے بعد ادارے کے عزم میں مزید پختگی آئی ہے اور آنے والے مہینوں میں زیر التوا مقدمات کو تیزی سے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے نئی حکمت عملی پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ عوام اور کاروباری حلقوں کی جانب سے بھی اس کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے ملک میں شفافیت اور قانون کی حکمرانی کا پیغام ملتا ہے۔