LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا علی کی موت خودکشی نہیں، والد کا تحقیقات کا مطالبہ

News Image
کراچی کے متوفی نوجوان تاجر میر رضا علی کے والد نے اپنے بیٹے کی موت کو خودکشی کے طور پر پیش کیے جانے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ والد کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ میں اہم حقائق کو غائب کیا گیا ہے اور ان کا بیٹا جولائی سے لاپتہ تھا۔
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کی پراسرار موت کا معاملہ ایک نیا رخ اختیار کرگیا ہے، جہاں متوفی کے والد نے اپنے بیٹے کی موت کو خودکشی کے طور پر پیش کیے جانے والے تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک سوچی سمجی سازش قرار دیا ہے۔ والد نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائے تاکہ اصل حقیقت سامنے آ سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ مبینہ طور پر میڈیکل رپورٹ میں کئی اہم اور بنیادی حقائق کو جان بوجھ کر نظر انداز یا غائب کیا گیا ہے۔ والد کے مطابق، یہ تمام باتیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ معاملہ صرف خودکشی کا نہیں بلکہ اس کے پیچھے کچھ اور کہانی چھپی ہوئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات اور خاندانی ذرائع کے مطابق، متوفی نوجوان تاجر میر رضا علی 28 جولائی کو اچانک پرسرار طور پر لاپتہ ہو گئے تھے، جس کے بعد ان کے اہل خانہ شدید پریشانی میں مبتلا تھے۔ کافی تلاش اور پریشانی کے بعد جب ان کی لاش ملی تو اسے پولیس اور متعلقہ حکام کی طرف سے مبینہ طور پر خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ تاہم، لواحقین بالخصوص ان کے والد نے ان تمام پولیس رپورٹس اور ابتدائی طبی آراء کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا ایک باصلاحیت اور حوصلہ مند تاجر تھا اور وہ ہرگز ایسی کوئی انتہائی قدم اٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ خاندان کا دعویٰ ہے کہ موت کے اس واقعے میں کچھ ایسے عناصر ملوث ہیں جو حقائق کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ والد کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور طبی ماہرین کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ میڈیکل بورڈ کی تشکیل نو کی جائے اور تمام شواہد کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ خاندان کا عزم ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن قانونی چارہ جوئی کریں گے اور حکام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔ کراچی کے شہری اور کاروباری حلقوں میں بھی اس واقعے کے بعد گہری تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ بھی انصاف کی فراہمی کے لیے خاندان کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔