World
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ کے ساتھ جنگ کے حوالے سے اہم بیان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ جنگ کو مزید پھیلانے یا جاری رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے علاقائی کشیدگی میں کمی پر زور دیتے ہوئے جنگ کو ایک بیماری قرار دیا ہے۔
تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک امریکہ یا خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ جنگ کو پھیلانے یا اسے طویل کرنے کا بالکل خواہاں نہیں ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور خبر رساں اداروں کے مطابق، ایرانی صدر نے حالیہ کشیدگی کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے جنگ کو ایک 'بیماری' سے تشبیہ دی ہے جو خطے کے امن اور استحکام کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کسی بھی صورت میں خطے میں مزید بحران پیدا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا نہیں ہے۔
اس کے باوجود، صدر پزشکیان نے دو ٹوک الفاظ میں یہ بھی واضح کیا کہ تہران اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے پوری طاقت سے تیار ہے۔ ایرانی حکومت ملک کے دفاع میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کو برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران تمام تر بین الاقوامی اصولوں کا احترام کرتے ہوئے اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے، لیکن وہ دانستہ طور پر ایسے حالات پیدا کرنے سے گریزاں ہے جو جنگ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کریں۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، ایرانی قیادت کا یہ بیان خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران سفارتی سطح پر معاملات کو سلجھانے اور مزید خونی تصادم سے بچنے کی راہ تلاش کر رہا ہے۔ ایرانی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی بھی خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جارحانہ اقدامات سے گریز کریں گے تاکہ مزید انسانی المیوں سے بچا جا سکے اور خطے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔