LIVE
Loading Breaking News...

شیخ حسینہ کے ورچوئل خطاب پر بھارت کا مؤقف اور بنگلہ دیشی انتباہ

News Image
بھارت نے واضح کیا ہے کہ اس کا بنگلہ دیش کی معزول سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے متوقع ورچوئل خطاب سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسری جانب، بنگلہ دیشی حکومت نے میڈیا کو خبردار کیا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم کی تقریر نشر کرنے سے گریز کرے۔
نئی دہلی اور ڈھاکہ کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب بھارت نے بنگلہ دیش کی معزول سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے متوقع ورچوئل خطاب سے لاتعلقی کا باضابطہ اعلان کیا۔ بھارتی حکام کے مطابق نئی دہلی کا اس تقریب یا خطاب سے کوئی واسطہ نہیں ہے، جس کے بعد اس معاملے پر خطے میں مختلف سیاسی اور سفارتی تبصرے شروع ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب، بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے اس صورتحال پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے نئی دہلی سے متوقع خطاب پر اپنا واضح موقف پیش کرے۔ ڈھاکہ کا اصرار ہے کہ معزول رہنما کی جانب سے اس قسم کے بیانات یا تقاریب دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے لیے سازگار نہیں ہیں۔ بنگلہ دیشی حکام نے ملک کے تمام میڈیا اداروں کو بھی سختی سے خبردار کیا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم حسینہ واجد کی کسی بھی قسم کی تقریر یا خطاب کو نشر کرنے سے گریز کریں۔ مشیر زاہد کے مطابق عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شیخ حسینہ کے بیانات نشر کرنے والے میڈیا اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس تمام صورتحال پر بعض سابق بھارتی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو غیر ضروری طور پر طول نہیں دینا چاہیے اور اسے ایک رتی بھر کی بات پر طوفان اٹھانے کے مترادف قرار دیا۔ تاہم، بنگلہ دیش میں اس معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے سیکیورٹی اور میڈیا پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ عوامی سطح پر کسی بھی ممکنہ اشتعال کو روکا جا سکے۔