Sports
یو ایف سی کو وائٹ ہاؤس ایونٹ پر کروڑوں کا نقصان
مائیکرو بلاگنگ اور میڈیا رپورٹس کے مطابق یو ایف سی کے مالکان کو جون میں وائٹ ہاؤس میں منعقدہ فریڈم 250 ایونٹ کے دوران تقریباً 30 ملین ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس تقریب میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی خصوصی شرکت کی تھی۔
مڈل ایسٹ اور دنیا بھر میں مارشل آرٹس اور مکسڈ مارشل آرٹس (یو ایف سی) کے مداحوں کے لیے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے جہاں یو ایف سی کے مالکان کو جون کے مہینے میں وائٹ ہاؤس کے احاطے میں منعقد کی جانے والی 'فریڈم 250' نامی تقریب کے دوران شدید مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس بڑے ایونٹ کے انعقاد پر یو ایف سی کو مجموعی طور پر 30 ملین امریکی ڈالر (تقریباً 22 ملین برطانوی پاؤنڈ) کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اس تقریب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بطورِ خاص شرکت کی تھی، جس کی وجہ سے اس ایونت کو دنیا بھر میں بھرپور پذیرائی اور میڈیا کوریج حاصل ہوئی۔ وائٹ ہاؤس جیسی انتہائی محفوظ اور اہم ترین سرکاری عمارت میں اتنے بڑے پیمانے پر اسپورٹس ایونٹ کا انعقاد اپنے آپ میں ایک منفرد اور تاریخی قدم تھا، تاہم لاجسٹکس، سیکیورٹی اور انتظامات کے بھاری اخراجات اس مالی گھاٹے کی بڑی وجہ بنے۔
اگرچہ اس تقریب نے بین الاقوامی سطح پر بے پناہ توجہ حاصل کی اور کھیلوں کے حلقوں میں اس کے چرچے بھی ہوئے، لیکن تجارتی لحاظ سے یہ یو ایف سی کے لیے سودمند ثابت نہیں ہو سکی۔ کھیلوں کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں اس طرح کے بڑے ایونٹس کا انعقاد سیاسی اور ثقافتی اعتبار سے تو بہت اہمیت رکھتا ہے، لیکن اتنے بڑے پیمانے پر فنڈز اور سرمایہ کاری کا ڈوب جانا منتظمین کے لیے ایک بڑا دھکا ہے۔
اس تمام صورتحال کے باوجود، یو ایف سی انتظامیہ کی جانب سے مستقبل میں اس نوعیت کے دیگر بڑے پروجیکٹس اور تقریبات کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ مداح اور تجزیہ کار اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا یو ایف سی اس بھاری نقصان کے بعد آئندہ کس قسم کی حکمت عملی اپناتا ہے اور کیا اس طرح کے ہائی پروفائل ایونٹس کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا یا نہیں۔