Business
امریکہ ایران مذاکرات اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ
پچھلے روز بڑی گراوٹ کے بعد تیل کی عالمی منڈی میں ایک بار پھر تیزی دیکھی جا رہی ہے جس کی بڑی وجہ امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی اور مذاکرات کے حوالے سے ابہام ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اتار چڑھاؤ خلیجی خطے بالخصوص آبنائے ہرمز کی صورتحال سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز ہونے والی شدید مندی کے بعد اب دوبارہ ریکوری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ممکنہ مذاکرات اور سفارتی سطح پر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی تجارت کے دوران سرمایہ کار اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی واقع ہوگی یا خطے میں تناؤ مزید بڑھے گا۔
اس سے قبل امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کو روکنے کے فیصلوں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی تھی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی منڈی اس وقت دنیا بھر کی سیاسی خبروں اور خاص طور پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری لفظی جنگ اور پس پردہ رابطوں سے انتہائی حساس انداز میں متاثر ہو رہی ہے۔
تجارتی ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگرچہ عارضی طور پر کشیدگی میں کمی کی امیدوں نے تیل کی قیمتوں کو نیچے دھکیلا تھا، تاہم زمینی حقائق اور معاہدوں کے حوالے سے مستقل ابہام نے مارکیٹ کو دوبارہ غیر مستحکم کر دیا ہے۔ خلیجی خطے سے تیل کی رسد کے حوالے سے خدشات بدستور برقرار ہیں، جس کی وجہ سے خام تیل کے خریدار اور فروخت کنندگان احتیاط سے کام لے رہے ہیں اور ہر نئی سیاسی پیش رفت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔