World
روس اور یوکرین میں میزائل حملے، نو افراد ہلاک
روس اور یوکرین کے درمیان فرنٹ لائن سے بہت دور میزائل اور ڈرون حملوں میں تیزی آ گئی ہے جس کے نتیجے میں دونوں جانب شہریوں کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان حالیہ اور شدید حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازعہ اب محاذِ جنگ سے نکل کر دونوں ممالک کے اندرونی اور دور دراز علاقوں تک پھیل چکا ہے، جہاں حالیہ فضائی اور میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم نو افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے اہم اور حساس علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور جدید ڈرونز کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس نئی لہر نے عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے کیونکہ حملے اب صرف فوجی اڈوں تک محدود نہیں رہے بلکہ رہائشی علاقوں اور شہری تنصیبات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے دارالحکومتوں اور دیگر بڑے شہروں کے قریب فضائی دفاعی نظام کی مسلسل گونج سنائی دے رہی ہے، جبکہ میزائل کے ملبے گرنے اور دھماکوں کے نتیجے میں شہری آبادی کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور مقامی حکام کے مطابق، گرنے والے ڈرونز اور میزائلوں کی وجہ سے کئی رہائشی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں اور امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں میں خوف و ہراس کی فضا پائی جاتی ہے اور لوگ محفوظ مقامات کی تلاش میں نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔
ماہرینِ دفاع کا کہنا ہے کہ فرنٹ لائن سے بہت دور اس قسم کے ہلاکت خیز حملے اس بات کا غماز ہیں کہ جنگ اب ایک انتہائی خطرناک اور تباہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ فریقین کی جانب سے صلح یا سیز فائر کے بجائے ایک دوسرے پر بڑے پیمانے پر فضائی ضربیں لگانے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے، جس کا خمیازہ دونوں اطراف کے معصوم شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اگر اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے فوری طور پر کوئی سفارتی حل تلاش نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں جانی و مالی نقصان میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔