World
اسرائیلی معیشت جنگ کے باوجود کیوں مستحکم ہے؟ تفصیلی جائزہ
مختلف محاذوں پر جاری شدید جنگ کے باوجود اسرائیلی معیشت نے حیرت انگیز طور پر استحکام برقرار رکھا ہے۔ ماہرین اس کی بنیادی وجوہات میں مضبوط تکنیکی شعبہ اور مالیاتی پالیسیوں کو قرار دے رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور کئی محاذوں پر لڑی جانے والی جنگ کے باوجود اسرائیلی معیشت نے حیرت انگیز طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے اور اب تک بڑے پیمانے پر معاشی انہدام سے بچی ہوئی ہے۔ معاشی ماہرین اس بات پر حیران ہیں کہ اتنے بڑے پیمانے پر فوجی اخراجات اور اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود ملک کا مالیاتی ڈھانچہ مکمل طور پر کیوں نہیں بکھرا۔ اس صورتحال نے عالمی معاشی حلقوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی ہے کیونکہ عام طور پر طویل جنگیں کسی بھی ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔
اس اقتصادی لچک کی ایک بڑی وجہ اسرائیل کا انتہائی مضبوط اور جدید ٹیکنالوجی کا شعبہ ہے۔ ہائی ٹیک انڈسٹری، جو ملکی برآمدات اور جی ڈی پی کا ایک بڑا حصہ بناتی ہے، نے جنگ کے دوران بھی اپنی سرگرمیاں کسی حد تک جاری رکھیں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے میں مدد دی۔ اس کے علاوہ، ملک کے مالیاتی نظام اور مرکزی بینک کی جانب سے اٹھائے گئے بروقت اقدامات نے مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کو برقرار رکھا اور افراط زر کے دباؤ کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔
تاہم، اس تمام تر لچک کے باوجود معیشت کو طویل المدتی خطرات کا سامنا ہے۔ مسلسل جنگی اخراجات، دفاعی بجٹ میں اضافے اور سیاحت سمیت دیگر شعبوں میں ہونے والے نقصانات نے حکومی خزانے پر بوجھ بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ قلیل مدت میں معیشت نے دھچکوں کو برداشت کر لیا ہے، لیکن اگر یہ تنازع مزید طویل ہوتا ہے تو اس کے اثرات زیادہ گہرے اور نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں اسرائیلی معیشت کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ جنگ کتنی طویل چلتی ہے اور حکومت کس طرح مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ خطے کی مجموعی اقتصادی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکے اور آنے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔