LIVE
Loading Breaking News...

آزاد کشمیر الیکشن: حلقہ ایل اے 27 اور 28 میں پولنگ ختم، پی پی پی کے دھاندلی کے الزامات

News Image
آزاد جموں و کشمیر کے دو حلقوں میں ملتوی شدہ پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابی عمل میں دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے شکست تسلیم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران خراب موسم اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ملتوی ہونے والے دو حلقوں میں پولنگ کا عمل منگل کے روز پرامن طور پر مکمل ہو گیا۔ اس دوران پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر مسلم لیگ ن پر انتخابات میں دھاندلی اور انتظامی مشینری کے غلط استعمال کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ یاد رہے کہ ایل اے 27 مظفرآباد-I (کوٹلا) اور ایل اے 28 مظفرآباد-II (لچھہٹ) کے بعض پولنگ اسٹیشنوں پر گزشتہ تاریخوں میں بارش اور سڑکیں بند ہونے کے باعث پولنگ ملتوی کر دی گئی تھی، جو اب منعقد کی گئی۔ انتخابی عمل کے دوران پیپلز پارٹی نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر الیکشن کمیشن کو باضابطہ شکایات ارسال کیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ عملے کو ایک ن لیگ حامی کے گھر سے سرکاری بیلٹ پیپرز اور پولنگ بیگز سمیت رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ پیپلز پارٹی کی نائب صدر شیری رحمان نے بھی اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ دھاندلی کے ثبوت اور ویڈیوز الیکشن کمیشن کو فراہم کر دی گئی ہیں، لہذا فوری طور پر قانونی اور تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ تاہم الیکشن کمیشن کے ایک ذمہ دار اہلکار نے مؤقف اختیار کیا کہ موصول ہونے والی ویڈیوز مبہم ہیں اور تصدیق کے بغیر انہیں حتمی ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔ دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ اور مسلم لیگ ن کے انتخابی کوآرڈینیٹر طلال چوہدری نے پیپلز پارٹی کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ رہنماؤں کو شکست پر رونے کے بجائے بڑے دل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے پہلے دو مراحل میں ن لیگ کی شاندار فتح دراصل عوام کا وفاقی حکومت کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ن لیگ پونچھ ڈویژن کے تیسرے مرحلے میں بھی واضح اکثریت حاصل کرے گی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا تھا کہ ن لیگ کے خلاف عوامی تحریک کا آغاز ہو چکا ہے اور ان کے زوال کا الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ مرکز میں اتحادی ہونے کے باوجود دونوں جماعتوں کے درمیان آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج اور مبینہ دھاندلی کے تنازع پر سیاسی لفظی جنگ میں شدت آتی جا رہی ہے، جبکہ تیسرے مرحلے کے تحت پونچھ ڈویژن کے 11 حلقوں میں 10 اگست کو انتخابات منعقد ہوں گے۔