Pakistan
لاہور پولیس اسٹیشن میں خاتون سے زیادتی، عملہ معطل
لاہور کے غازی آباد پولیس اسٹیشن میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی جانب سے ایک خاتون کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ واقعے کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز نے غازی آباد پولیس اسٹیشن کے تمام ستر سے زائد اہلکاروں کو معطل کر کے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔
لاہور کے علاقے غازی آباد کے تھانے میں ایک انتہائی افسوسناک اور شرمناک واقعہ رونما ہوا ہے جہاں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو پولیس اسٹیشن کی عمارت کے اندر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ واقعے کے بعد پولیس حکام کی طرف سے فوری کارروائی عمل میں لاتے ہوئے تھانے کے تمام عملے کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ذرائع اور پولیس رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اتوار کے روز پیش آیا تھا جس کا مقدمہ پیر کو درج کیا گیا۔ لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ خاتون نے اعلیٰ پولیس حکام کی موجودگی میں تھانے کے اس مخصوص کمرے کی نشاندہی کی ہے جہاں مبینہ زیادتی کا یہ گھناؤنا فعل سرزد ہوا۔ ڈی آئی جی کے مطابق یہ کمرہ پولیس اسٹیشن کی بالائی منزل پر واقع ہے۔ پولیس قوانین کے تحت کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا بدسلوکی پر نظر رکھنا پورے عملے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اسی اصول کے تحت غازی آباد پولیس اسٹیشن میں تعینات ستر سے زائد افسران اور اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی اہلکار نے یہ زحمت گوارا نہیں کی کہ وہ پوچھ گچھ کرتا کہ اے ایس آئی نے کسی بھی خاتون پولیس اہلکار کی غیر موجودگی میں اس خاتون کو تھانے کے اندر کیوں بلا رکھا تھا۔ واقعہ کا مقدمہ متاثرہ خاتون کے والد کی مدحت میں غازی آباد پولیس اسٹیشن میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 376 اور پولیس آرڈر 2002 کی دفعہ 155-سی کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے متن میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ لڑکی، جس کی عمر بیس سال کے قریب ہے اور وہ ذہنی طور پر معذور بتائی جاتی ہے، اتوار کی سہ پہر گھر سے نکلی تھی اور واپس نہ آنے پر اہل خانہ نے اس کی تلاش شروع کی۔ لڑکی کے والد کے مطابق ایک شخص نے انہیں بتایا کہ ایک پولیس اہلکار جو سادے کپڑوں میں ملبوس تھا، ان کی بیٹی کو اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ والد نے بتایا کہ جب وہ رات نو بجے کے قریب غازی آباد تھانے پہنچے تو انہیں اطلاع ملی کہ ان کی بیٹی گھر واپس پہنچ گئی ہے۔ جب وہ گھر گئے تو ان کی بیٹی رو رہی تھی اور اس نے بتایا کہ ایک پولیس اہلکار اسے موٹر سائیکل پر بٹھا کر لے گیا تھا اور اس کے ساتھ زیادتی کی۔ اس سنگین واقعے کے بعد شہریوں اور سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے جبکہ اعلیٰ حکام نے اس معاملے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا یقین دلایا ہے۔