Pakistan
کراچی میں چہلم امام حسین کا مرکزی جلوس، سخت سیکیورٹی اور ٹریفک پلان جاری
کراچی میں شہدائے کربلا کے چہلم کے سلسلے میں مرکزی جلوس انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ نشتر پارک سے برآمد ہو کر اپنے مقررہ راستوں کی جانب گامزن ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پولیس نے ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستوں کا اعلان کیا ہے اور شہر بھر میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔
کراچی میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر مرکزی جلوس سخت سیکیورٹی انتظامات کے تحت نشتر پارک سے برآمد ہو چکا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق اربعین کے اس مقدس موقع پر ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی شیعہ مسلمانوں کی جانب سے عزاداری کا سلسلہ جاری ہے، جس کے لیے سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ جلوس کے راستوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔
پولیس کی جانب سے جاری کردہ اپڈیٹس کے مطابق، مرکزی جلوس کا اگلا حصہ اپنے روایتی راستوں سے گزرتے ہوئے عیدگاہ چوک تک پہنچ چکا ہے جبکہ جلوس کا پچھلا حصہ برٹو روڈ پر موجود ہے اور یہ اپنے مقررہ راستے سے ہوتے ہوئے حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس جلوس کے روٹ اور اطراف کے تمام علاقوں کو اپنی تحویل میں لے رکھا ہے اور سیکیورٹی کے انتظامات کی خود نگرانی کی جا رہی ہے۔
شہر میں ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے اور عوام کو زحمت سے بچانے کے لیے ٹریفک پولیس نے ایک جامع متبادل پلان جاری کیا ہے۔ ایم اے جناح روڈ کو گرو مندر سے ٹاور تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رکھا گیا ہے۔ کراچی کے جنوبی، وسطی اور مشرقی اضلاع سے تعلق رکھنے والے مسافروں کو متبادل راستے استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ جلوس کے شرکاء کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرناپڑے۔
کراچی کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (آئی جی) جاوید عالم نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ چہلم کے موقع پر مجموعی طور پر 11,479 پولیس افسران اور جوان سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس نفری میں سے 7,465 اہلکار 108 جلوسوں، 2,901 اہلکار 501 مجالس جبکہ 1,113 اہلکار 642 امام بارگاہوں پر تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تمام ایس ایچ اوز کو اپنے اپنے علاقوں میں گشت بڑھانے، اسنیپ چیکنگ اور حساس تنصیبات کی سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کی سخت ہدایات دی گئی ہیں۔