Business
اسٹیٹ بینک کا پٹرولیم مصنوعات پر بینک چارجز محدود کرنے کا اعلان
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پٹرول پمپ مالکان کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیاں کرنے پر بینک چارجز کی حد مقرر کر دی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد ملک بھر میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینا اور فیول اسٹیشنز پر مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔
اسلام آباد: پٹرولیم ڈیلرز کے پرزور مطالبات پر عمل کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کی فروخت پر بینک چارجز کی حد مقرر کر دی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد فیول اسٹیشنز پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کرنا اور ملک بھر میں ڈیجیٹل شمولیت کو فروغ دینا ہے۔ نئے فیصلوں کے تحت ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کے ذریعے پٹرولیم کے لین دین پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹس (ایم ڈی آر) کی زیادہ سے زیادہ حد ایک روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ کیو آر کوڈز اور راست کے ذریعے ہونے والی آن لائن ادائیگیوں کے چارجز بیس پیسے فی لیٹر تک محدود کر دیے گئے ہیں۔
اس سے قبل بینک اپنی مرضی کے مطابق ٹرانزیکشن فیس وصول کر رہے تھے جس کی شرح ہر بینک اور صارف کے لحاظ سے مختلف تھی۔ پرانی شرحیں صفر اعشاریہ سات فیصد سے ڈیڑھ فیصد کے درمیان تھیں، جس کی وجہ سے فی لیٹر ٹرانزیکشن لاگت تین سے چار روپے تک پہنچ جاتی تھی۔ آل پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے) کے ترجمان حسن شاہ کے مطابق، یہ شرح مقررہ اور ریگولیٹڈ ڈیلر کمیشن آٹھ روپے چونسٹھ پیسے فی لیٹر کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی۔ بارہ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس اور دیگر اخراجات کے کٹنے کے بعد ڈیلرز کے پاس پٹرول پمپ چلانا انتہائی مشکل ہو رہا تھا، جس کی وجہ سے وہ شدید مالی دباؤ کا شکار تھے۔
مرکزی بینک کے اس نئے نوٹیفکیشن کے تحت کارڈ کے تمام موجودہ لین دین کے لیے ایم ڈی آر کو اکیس جنوری دو ہزار ستائیس تک تمام پاکستانی جاری کردہ پیمنٹ کارڈز کے لیے نافذ العمل رکھا جائے گا۔ مرکزی بینک نے تمام بینکوں اور ریگولیٹڈ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس چھ ماہ کے دوران پٹرول پمپس کے ساتھ فعال طور پر رابطہ رکھیں تاکہ راست کیو آر بیسڈ ادائیگیوں کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے اور اس کی دستیابی یقینی ہو سکے۔ ایس بی پی مارکیٹ کے ردعمل کی روشنی میں اگلے سال جنوری کے آخر میں ان ہدایات کا دوبارہ جائزہ لے گا۔
اگرچہ پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اس فیصلے کا محتاط خیرمقدم کیا ہے اور اسے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے، تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اصلاح شدہ نرخ اب بھی معاشی لحاظ سے زیادہ ہیں۔ ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ پٹرول کوئی عیش و آرام کی چیز نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے، اس لیے اس کی ڈیجیٹل فروخت پر کم سے کم لاگت عائد ہونی چاہیے تاکہ تاجر اور صارف دونوں باآسانی ڈیجیٹل نظام کو اپنا سکیں۔ پٹرولیم ڈیلرز نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت اور مرکزی بینک مستقبل میں بھی ڈیلرز کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات جاری رکھیں گے جو توانائی کے شعبے میں بہتری لانے کا باعث بنیں۔