LIVE
Loading Breaking News...

بحیرہ اسود میں جہازوں پر حملے، ترکیہ کا اظہارِ مذمت

News Image
ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے بحیرہ اسود میں پیش آنے والے ایک واقعے میں دو تجارتی بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے خطے میں سمندری نقل و حمل اور امن کے لیے شدید خطرہ ہیں۔
ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے بحیرہ اسود میں رونما ہونے والے ایک تشویشناک واقعے کے بعد دو بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ بحیرہ اسود میں سکیورٹی کی صورتحال اور تجارتی سرگرمیوں کو خطرے میں ڈالنے والے ایسے اقدامات کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی کا ماحول پایا جاتا ہے اور سمندری راستوں سے ہونے والی تجارت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ترکیہ جو کہ بحیرہ اسود کا ایک اہم ساحلی ملک ہے، خطے میں امن و امان کے قیام اور بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے طویل عرصے سے مصالحانہ اور فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ ترک وزارتِ خارجہ کے مطابق، اس نوعیت کے حملے نہ صرف خطے کی معیشت اور تجارت کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ اس سے بین الاقوامی قوانین اور سمندری سلامتی کے اصولوں کی بھی سنگین خلاف ورزی ہوتی ہے۔ حکومتِ ترکیہ نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی ماہرینِ امور نے بحیرہ اسود کے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ یہ سمندری گزرگاہ دنیا بھر میں غذائی اجناس اور دیگر ضروری اشیاء کی ترسیل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ترکیہ کے متعلقہ ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور متاثرہ بحری جہازوں کے عملے اور ان کی سلامتی سے متعلق تمام ضروری معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ترکیہ اس معاملے پر بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر مزید اقدامات پر غور کرے گا تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔