Business
ایرانی تجارتی وفد کا دورہ اسلام آباد، دوطرفہ تجارت بڑھانے پر اتفاق
ایرانی تجارتی وفد نے اسلام آباد میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سیکرٹریٹ کا دورہ کیا ہے۔ اس دورے کے دوران دونوں برادر ممالک نے دوطرفہ تجارت کو دس ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطح کے ایرانی تجارتی وفد نے اسلام آباد میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سیکرٹریٹ کا اہم دورہ کیا۔ دورے کے دوران دونوں اطراف کے تجارتی رہنماؤں اور حکام نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور کاروباری راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر پاکستان اور ایران نے اپنے باہمی تجارتی حجم کو بڑھا کر دس ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا بھرپور اعادہ کیا۔ اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ خطے میں امن اور خوشحالی کا دارومدار مضبوط اقتصادی روابط پر ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے دونوں برادر ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ایرانی ایلچی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے ساتھ روایتی تعلقات اب ایک نئے اور تاریخی دور میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں تجارتی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا۔ پاکستانی حکام کے ساتھ ہونے والی ان ملاقاتوں میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر ٹرکوں کی آمدورفت کو بڑھا کر دو ہزار تک پہنچایا جائے، تاکہ سرحدی تجارت کو مزید تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدوں اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے بھی امور زیر غور لائے گئے۔ ایران کے وزیر صنعت نے بھی اسٹریٹجک مذاکرات کے سلسلے میں پاکستان کا دورہ کیا ہے تاکہ تجارتی راہداریوں کو وسعت دی جا سکے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان تجارتی اہداف پر موثر طریقے سے عمل درآمد کیا گیا، تو اس سے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشت کو زبردست فروغ ملے گا بلکہ خطے میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔