World
غزہ میں 2023 کے شہداء کی اجتماعی تدفین اور نمازِ جنازہ
غزہ شہر میں ملبے تلے سے حال ہی میں برآمد ہونے والے دو خاندانوں کے 112 افراد کی میتوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔ یہ تمام افراد سنہ 2023 میں ہونے والے ایک اسرائیلی فضائی حملے کے دوران شہید ہوئے تھے جنہیں اب سپردِ خاک کیا گیا ہے۔
غزہ شہر میں انتہائی غم و غصے اور سوگوار ماحول کے درمیان دو بڑے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے 112 فلسطینیوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کی گئی ہے۔ یہ تمام افراد سنہ 2023 کے دوران کیے جانے والے ایک شدید اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئے تھے، جن کی لاشیں طویل عرصے تک تباہ شدہ عمارتوں اور ملبے کے نیچے دبی رہی تھیں۔ علاقے میں جاری کشیدگی اور ریسکیو ذرائع کی انتہائی کمی کی وجہ سے ان لاشوں کو بروقت باہر نکالنا اور ان کی شناخت کرنا ممکن نہیں ہو پایا تھا۔
حالیہ دنوں میں جب امدادی کارکنوں اور مقامی رضاکاروں نے بھاری مشینری اور اپنے ہاتھوں کی مدد سے اس مقام پر ملبے کو ہٹانے کا کام دوبارہ شروع کیا، تب جاں بحق ہونے والے ان افراد کی باقیات کو نکالا گیا۔ لواحقین اور مقامی شہریوں نے انتہائی جذباتی مناظر کے درمیان اپنے پیاروں کی تدفین کی۔ ان خاندانوں کے لیے یہ لمحہ انتہائی تکلیف دہ تھا کیونکہ وہ طویل عرصے تک اپنے پیاروں کے انجام سے ناواقف رہے اور اب جاں بحق ہونے کے بعد ان کی باقیات کو سپردِ خاک کیا جا رہا ہے۔
غزہ میں جاری تنازعے اور بمباری کے باعث اس طرح کے ہزاروں واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں خاندانوں کے خاندان ملبے تلے دب کر رہ گئے ہیں۔ طبی اور امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ کے مختلف حصوں میں اب بھی بڑی تعداد میں لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں جن تک رسائی حاصل کرنا ریسکیو ٹیموں کے لیے تاحال ایک بہت بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ وسائل کی کمی اور مسلسل سیکیورٹی خطرات کی وجہ سے امدادی کارروائیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
اس اجتماعی جنازے میں مقامی شہریوں، رشتہ داروں اور مختلف فلاحی تنظیموں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے دعائیں کیں اور بین الاقوامی برادری سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں جاری انسانی بحران کا فوری نوٹس لے۔ عوام کا کہنا ہے کہ دنیا کو اس بربادی اور انسانیت سوز مناظر کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف اور سکون مل سکے۔