LIVE
Loading Breaking News...

بین اسٹوکس کا کرکٹ میں شراب نوشی کی ثقافت پر بڑا بیان

News Image
انگلینڈ کے سابق کپتان بین اسٹوکس کا کہنا ہے کہ کرکٹ کی تاریخ میں شراب نوشی ہمیشہ سے ایک ثقافتی حصہ رہی ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ان کی قیادت میں کھیلنے والی موجودہ انگلش ٹیم میں شراب کا کوئی سنگین مسئلہ موجود نہیں۔
انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بین اسٹوکس نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ شراب نوشی کا رجحان کرکٹ کے کھیل میں بہت گہرائی تک سرایت کر چکا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کھیل کی روایات اور طویل تاریخ میں اس طرح کی سماجی سرگرمیاں ایک عرصے سے چلی آ رہی ہیں، جنہیں یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بین اسٹوکس کے مطابق، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے تسلیم کرنا ہوگا کیونکہ یہ طویل عرصے سے کرکٹ کے کلچر کا ایک حصہ بنی ہوئی ہیں۔تاہم، اس بات پر زور دیتے ہوئے انہوں نے ان تمام تاثرات کو سختی سے مسترد کر دیا جن کے مطابق ان کی زیر قیادت کھیلنے والی انگلش ٹیم میں شراب نوشی کا کوئی غیر معمولی یا منفی مسئلہ پایا جاتا ہے۔ بین اسٹوکس کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس کلچر کی جڑیں مضبوط ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ موجودہ کھلاڑیوں کی کارکردگی یا نظم و ضبط پر اس کا کوئی برا اثر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑی اپنے پیشہ ورانہ فرائض سے پوری طرح آگاہ ہیں اور میدان کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔سابق کپتان کے اس بیان کے بعد کھیلوں کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں بعض مبصرین کرکٹ میں ثقافتی تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ روایتی ماحول ٹیم کے اندرونی اتحاد کے لیے اہم ہوتا ہے۔ بین اسٹوکس نے اپنے تجربات کی روشنی میں بتایا کہ کس طرح جدید دور کے کھلاڑی اپنی فٹنس اور پروفیشنل ازم کے باعث ان تمام معاملات میں توازن قائم رکھتے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انگلش کرکٹ بورڈ کھلاڑیوں کے طرزِ زندگی اور نظم و ضبط کو لے کر مختلف ضابطے نافذ کر رہا ہے، اور بین اسٹوکس کے خیالات اس پورے معاملے پر ایک نیا زاویہ فراہم کرتے ہیں۔