LIVE
Loading Breaking News...

ہسپانوی وزیراعظم سانچیز کو سبتہ سرحد پر یورپی یونین میں تنقید

News Image
ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز کو سبتہ کے سرحدی معاملے پر یورپی یونین کے اجلاس کے دوران شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس واقعے کے بعد زیادہ تر تارکینِ وطن نے شمالی افریقی انکلیو چھوڑ کر مراکش واپس جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز کو حال ہی میں اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب یورپی یونین کے رہنماؤں کا اجلاس شمالی افریقی انکلیو سبتہ کی سرحد پر پیش آنے والی صورتحال پر غور کرنے کے لیے بلایا گیا۔ اس سرحدی تنازع نے اسپین اور مراکش کے تعلقات کو ایک بار پھر تناؤ کا شکار کر دیا ہے، جبکہ یورپی یونین کی سطح پر بھی اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کی طرف سے ہسپانوی حکومت کی پالیسیوں اور سرحدی انتظامات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ دوسری جانب، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق صورتحال میں کچھ بہتری کے آثار بھی نظر آئے ہیں۔ سبتہ کے انکلیو میں داخل ہونے والے تارکینِ وطن کی اکثریت نے رضاکارانہ طور پر یا حالات کے دباؤ کے تحت اس علاقے کو چھوڑ دیا ہے اور وہ واپس مراکش لوٹ چکے ہیں۔ اس پیشرفت کے بعد مقامی انتظامیہ نے کچھ سکھ کا سانس لیا ہے، تاہم سیاسی حلقوں میں اس بحران کے طویل مدتی اثرات پر بحث بدستور جاری ہے۔ یورپی یونین کے اس اہم اجلاس میں رکن ممالک کے رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ سرحدوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنایا جائے اور غیر قانونی نقل مکانی کے اسباب کا احاطہ کیا جائے۔ ہسپانوی وزیراعظم کو ملک کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر اپوزیشن کی جانب سے سخت دباؤ کا سامنا ہے، جو ان کی حکومت کی سفارتی اور سرحدی حکمت عملی کو ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے بحران مستقبل میں یورپی ممالک کے لیے امیگریشن پالیسیوں کو سخت کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔