LIVE
Loading Breaking News...

داعش کے مظالم کے 12 سال: یزیدی برادری کا انصاف کا مطالبہ

News Image
عراق کی یزیدی برادری کو داعش کے حملے اور سنگین مظالم کا شکار ہوئے بارہ سال مکمل ہو چکے ہیں، جسے اقوام متحدہ نے باضابطہ طور پر نسل کشی تسلیم کیا تھا۔ متاثرہ ہزاروں افراد اب بھی اپنے حقوق کی بحالی اور انصاف کے حصول کے لیے سرگرداں ہیں۔
عراق کی اقلیتی یزیدی برادری کو دہشت گرد تنظیم داعش کے حملے اور بدترین مظالم کا نشانہ بنے ہوئے بارہ سال بیت چکے ہیں۔ اس تاریخی اور المناک سانحے کو اقوام متحدہ اور عالمی برادری باضابطہ طور پر نسل کشی کے طور پر تسلیم کر چکی ہے، تاہم متاثرہ خاندانوں کے زخم تاحال ہرے ہیں۔ بارہ سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود ہزاروں یزیدی تاحال اپنے پیاروں کے بارے میں لاعلم ہیں اور انصاف کے حصول کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ سنجار اور اس کے اطراف کے علاقوں میں ہونے والی تباہی کے اثرات آج بھی نمایاں ہیں اور متاثرہ آبادی کی بحالی کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ داعش کے جنگجوؤں کی جانب سے اگست 2014 میں کیے گئے اس ہولناک حملے کے دوران ہزاروں یزیدی مردوں کو قتل کر دیا گیا تھا جبکہ لاتعداد خواتین اور بچوں کو اغوا کر کے غلام بنا لیا گیا تھا۔ اس انسانی المیے کے نتیجے میں لاکھوں افراد اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے اور ملک کے اندر یا بیرون ملک عارضی کیمپوں میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے لگے۔ اگرچہ کچھ علاقوں میں عراقی حکومت اور بین الاقوامی تنظیموں کی مدد سے تعمیر نو کے اقدامات کیے گئے ہیں، لیکن بنیادی سہولیات کا فقدان اور سیکیورٹی خدات کی وجہ سے بیشتر یزیدی اب بھی اپنے گھروں کو واپس جانے سے کترا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور یزیدی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس انسانیت سوز جرم کے ذمہ داروں کو بین الاقوامی عدالتوں میں کٹہرے میں لانا انتہائی ضروری ہے۔ عالمی برادری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ یزیدی برادری کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے ساتھ ساتھ ان کے گمشدہ افراد کی بازیابی اور بحالی کے لیے عملی اقدامات کرے، تاکہ متاثرہ لوگوں کو حقیقی معنوں میں انصاف مل سکے۔