LIVE
Loading Breaking News...

نیب نے 2026 کی دوسری سہ ماہی میں ریکارڈ 2.45 ٹریلین روپے کے اثاثے ریکور کرلیے

News Image
قومی احتساب بیورو نے سال 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اصلاحات کی مدد سے 2.45 ٹریلین روپے مالیت کے سرکاری اثاثے ریکور کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ بیورو کے مطابق اس شاندار کارکردگی کے ساتھ پہلے چھ ماہ کی کل ریکوریز تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے سال 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2.45 ٹریلین روپے مالیت کے سرکاری اثاثے اور زمینیں ریکور کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ نیب ترجمان کے مطابق یہ کامیابی انسداد بدعنوانی کے محکمے میں مصنوعی ذہانت (AI) کے نفاذ اور شفاف ڈیجیٹل اصلاحات کا نتیجہ ہے۔ بیورو کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال کے پہلے چھ ماہ کی مجموعی ریکوریز بڑھ کر 5.41 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی ہیں جو کہ ادارے کی تاریخ میں چھ ماہ کی مدت میں ہونے والی سب سے بڑی ریکوریز ہیں۔ اس مہم کے دوران بلوچستان، سندھ، پنجاب اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں کل ملا کر 10 لاکھ 78 ہزار 283 ایکڑ سے زائد سرکاری و جنگلات کی زمین واگزار کروائی گئی۔ صوبائی سطح پر ریکوریز کی تفصیلات بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ نیب سکھر نے سب سے زیادہ ریکوریز کیں۔ سندھ بورڈ آف ریونیو اور سیکرٹری جنگلات کے تعاون سے نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور جنگلات و آبپاشی کے محکموں کی 8 لاکھ 53 ہزار 678 ایکڑ زمین واگزار کرائی گئی جس کی مالیت 1.01 ٹریلین روپے ہے۔ اسی طرح نیب بلوچستان نے گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور ہنگول نیشنل پارک سمیت 2万09544 ایکڑ اراضی ریکور کی جس کی مالیت 604.64 ارب روپے بنتی ہے۔ نیب کراچی نے غیر قانونی طور پر الاٹ شدہ 11,422 ایکڑ سرکاری زمین اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے متعلق لیز کی جانچ پڑتال کے ذریعے 467.11 ارب روپے مالیت کے اثاثے بازیافت کیے۔ مزید برآں، نیب لاہور نے پنجاب کوآپریٹو بورڈ فار لیکویڈیشن سے جڑی 1,909 ایکڑ اراضی اور دیگر سرکاری زمینیں ریکور کیں جن کی مالیت 288.29 ارب روپے ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے دفاتر نے کیپٹل ڈیلوپمنٹ اتھارٹی کی مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے وابستہ 810 ایکڑ اراضی واگزار کرائی جس کی قیمت 66.63 ارب روپے ہے۔ اس کے علاوہ ہاؤسنگ اسکیموں اور مالیاتی فراڈ سے متاثر ہونے والے 24,365 سے زائد افراد کو ان کے رقوم اور اثاثوں کی واپسی کی صورت میں 42.30 ارب روپے کے قریب معاوضہ فراہم کیا گیا۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ نیب اب روایتی طریقہ کار سے مکمل طور پر نکل کر ای-آفس سسٹم اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی ای-انویسٹی گیشن کے نظام کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی سے مشکوک مالیاتی پیٹرنز کا سراغ لگانا، ہائی رسک کیسز کی ترجیح کا تعین کرنا اور تحقیقات کو مزید تیز بنانا ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی مداخلت کو کم سے کم کرنے کے لیے شواہد کا اے آئی پر مبنی تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ شفاف اور ناقابلِ تردید تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی (PACA) کو بھی سینٹر آف ایکسی لینس کے طور پر فعال کر دیا گیا ہے تاکہ ملازمین کو جدید تربیتی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔