World
بھارت میں ایتھنول ملا پیٹرول: موٹرسٹس کا احتجاج اور حکومتی موقف
بھارت کی جانب سے پیٹرول میں بیس فیصد ایتھنول ملانے کے فیصلے کے خلاف ملک بھر میں موٹر گاڑیوں کے مالکان اور اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج شروع کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے خام تیل کی درآمدی لاگت میں کمی اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ شہریوں کو انجن خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
بھارت میں پیٹرول میں ایتھنول کی آمیزش کے پروگرام کو تیز کرنے کے فیصلے کے خلاف موٹر گاڑیوں کے مالکان میں شدید بے چینی اور غصہ پایا جاتا ہے۔ حال ہی میں اس پالیسی کے خلاف ملک کے دارالحکومت میں ایک احتجاجی مارچ بھی نکالا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت ای ٹونٹی یعنی بیس فیصد ایتھنول والے فیول کو قومی معیار بنانے کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ اپوزیشن رہنما اروند کیجریوال کی قیادت میں نکالے جانے والے اس مارچ میں دو لاکھ سے زائد افراد کے دستخط شدہ خطوط بھی پیش کیے جانے تھے، تاہم پولیس نے احتجاجی مظاہرین کو وزیراعظم کی رہائش گاہ تک پہنچنے سے روک دیا۔ دنیا کی تیسری سب سے بڑی آٹو مارکیٹ رکھنے والے ملک بھارت کا مؤقف ہے کہ اس بائیو فیول پالیسی کا مقصد بیرون ملک سے درآمد کیے جانے والے خام تیل پر انحصار کم کرنا اور ملکی کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔
حکومت کے اس اقدام نے درمیانی طبقے کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جو کہ وزیراعظم نریندر مودی کا ایک بڑا ووٹر بیس بھی مانا جاتا ہے۔ شہریوں کو خدشہ ہے کہ اس نئے ایندھن سے ان کی گاڑیوں کے انجن خراب ہو سکتے ہیں اور دیکھ بھال کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو گا۔ گزشتہ چند مہینوں کے دوران سوشل میڈیا پر ایسی متعدد ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں جن میں گاڑیوں کے مختلف حصوں کو پہنچنے والے مبینہ نقصان اور مائلیج میں کمی کو دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی شخصیات اور سماجی حلقوں نے بھی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ عوام کے جائز خدشات کو سنے بغیر اس پالیسی کو زبردستی نافذ نہ کرے۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ ای ٹونٹی ایندھن کے استعمال سے گاڑیوں کی فیول ایفیشنسی میں تین سے پانچ فیصد تک معمولی کمی تو آ سکتی ہے، لیکن انجن کو مستقل نقصان پہنچنے کے دعوے بے بنیاد ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ کروڑوں گاڑیاں اس نئے ایندھن پر چل رہی ہیں اور اس بات کا کوئی مصدقہ ثبوت نہیں ملا کہ اس سے بڑے پیمانے پر انجن فیل ہوئے ہوں۔ اس کے علاوہ بھارت کی بڑی آٹو موبائل کمپنیوں اور مینوفیکچررز نے بھی حکومتی موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اس فیول پر گاڑیوں کی جانچ کی ہے اور کوئی تشویشناک بات سامنے نہیں آئی۔ ٹیوٹا اور ماروتی جیسی کمپنیوں کے اعداد و شمار کے مطابق ای ٹونٹی کے استعمال سے گاڑیوں کے پرزہ جات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔ اس کے باوجود ناقدین اور صارفین کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو پمپس پر ای ٹین، ای ٹونٹی اور بغیر ملاوٹ کے پیٹرول کے آپشنز فراہم کرنے چاہئیں تاکہ صارفین کو اپنی مرضی کا ایندھن منتخب کرنے کی آزادی مل سکے۔