Politics
آزاد کشمیر انتخابات: پی پی پی کا دھاندلی کا الزام اور سیاسی ردعمل
آزاد کشمیر کے دو انتخابی حلقوں سے نتائج موصول ہونے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے۔ پی پی پی رہنما شیری رحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ بیلٹ پیپرز مسلم لیگ ن کے حامی کے گھر سے برآمد ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف رانا ثناء اللہ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے دو حلقوں میں ضمنی و مرحلہ وار انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ جیسے ہی شروع ہوا، سیاسی میدان میں ہلچل مچ گئی اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے انتخابی عمل پر شدید سوالات اٹھا دیے۔ نتائج موصول ہونے کے ابتدائی مراحل میں ہی پیپلز پارٹی کی جانب سے دھاندلی کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں جس سے خطے کا سیاسی ماحول خاصا گرم ہو چکا ہے۔ انتخابی عمل کے دوران دونوں بڑی سیاسی جماعتیں آمنے سامنے آ گئی ہیں اور ایک دوسرے پر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور دیگر عہدیداروں نے الزام لگایا ہے کہ انتخابی عمل شفاف نہیں رہا اور مبینہ طور پر دھاندلی کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ پارٹی رہنما شیری رحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ووٹرز کے حق رائے دہی پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی اور کچھ علاقوں سے بیلٹ پیپرز مبینہ طور پر ایک مسلم لیگ ن کے حامی کے گھر سے برآمد ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے انتخابی عمل کی شفافیت پر بڑا سوالیہ نشان لگ گیا ہے اور متعلقہ اداروں کو اس کا فوری نوটিশ لینا چاہئے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ نے پیپلز پارٹی کی جانب سے لگائے جانے والے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دھاندلی کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیوز اور دعوے سراسر جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ رانا ثناء اللہ کا موقف تھا کہ مخالفین اپنی شکست کو سامنے دیکھ کر اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں اور انتخابات کے دوران تمام عمل قانون کے مطابق اور شفاف طریقے سے مکمل کیا گیا ہے۔
انتخابی حلقوں میں کشیدگی کے پیش نظر سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ اور الیکشن کمیشن کے حکام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور دونوں فریقین سے قانون کے دائرے میں رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ نتائج کے حتمی اعلان کے بعد سیاسی تناؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں اپنی اپنی فتح کے لیے پرامید ہیں۔