LIVE
Loading Breaking News...

بھارت کی جنریشن زی کاکروچ پارٹی اور انتخابی سیاست

News Image
بھارت میں جنریشن زی کی ابھرتی ہوئی سیاسی تحریک نے نریندر مودی کی حکومت کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ تمام تر سیاسی ترغیبات کے باوجود اس جماعت نے روایتی انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔
بھارت میں نوجوان نسل یعنی جنریشن زی سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنوں نے ملک کے روایتی سیاسی منظر نامے میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایک منفرد اور غیر روایتی سیاسی گروہ، جسے 'کاکروچ پارٹی' کا نام دیا گیا ہے، نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس تحریک کے حامیوں کا انداز سیاست بالکل الگ ہے جو روایتی سیاسی جماعتوں اور ان کے ہتھکنڈوں کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ حالیہ سیاسی پیش رفت کے دوران، اس نئی جنریشن زی جماعت کو مختلف حلقوں کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے کی باقاعدہ ترغیبات دی گئیں تاکہ وہ اقتدار کی دوڑ میں شامل ہوں۔ تاہم، پارٹی کے رہنماؤں اور نوجوان کارکنوں نے تمام تر سیاسی پیشکشوں اور مراعات کو ٹھکرا دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ موجودہ انتخابی نظام عام آدمی اور نوجوانوں کے حقیقی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، اس لیے وہ انتخابی سیاست کا حصہ بننے کے بجائے دباؤ کی ایک متبادل طاقت کے طور پر ابھرنا چاہتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کاکروچ پارٹی کی یہ حکمت عملی حکمران جماعت کے لیے ایک انوکھا چیلنج بن گئی ہے۔ روایتی سیاسی جماعتیں عام طور پر انتخابی میدان میں مقابلہ کرنے کی عادی ہوتی ہیں، لیکن ایک ایسی قوت جو انتخابات میں آنے سے انکار کرتے ہوئے بھی عوامی حمایت حاصل کر رہی ہو، اس سے نمٹنا حکومت کے لیے انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کا یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کی نئی نسل روایتی سیاست سے بیزار ہو چکی ہے اور ملک میں بنیادی تبدیلی کی خواہاں ہے۔ آنے والے دنوں میں اس تحریک کے اثرات بھارتی سیاست پر گہرے مرتب ہونے کا امکان ہے۔ اگرچہ اس پارٹی نے فی الحال انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن ان کا احتجاجی انداز اور حکومتی پالیسیوں پر کڑی تنقید ملک بھر کے نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے۔ حکومت اور دیگر روایتی جماعتوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ نوجوان نسل کے بڑھتے ہوئے اس تذبذب اور بے چینی کا کیا حل نکالتے ہیں۔