LIVE
Loading Breaking News...

چین کی ڈیپ فیک ٹیکنالوجی اور تائیوان کے طلبا کی تربیت گاہیں

News Image
انسانی حقوق کے ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ چین کی جانب سے تائیوان کے نوجوان طلبا کے لیے منعقدہ سمر کیمپس ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا ہدف بن سکتے ہیں۔ ان جعلی ویڈیو سمیولیشنز کے ذریعے شرکا پر بیجنگ کی حمایت کے لیے دباؤ ڈالے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کے ایک سرکردہ حامی اور ماہر نے انکشاف کیا ہے کہ چین کی طرف سے تائیوان کے نوجوان طلبا کے لیے کم فیسوں پر منعقد کیے جانے والے سمر کیمپس خطرناک مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بیجنگ انتظامیہ ان پروگراموں کے دوران جدید ترین مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کر سکتی ہے، جو خطے میں نئی سیاسی کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان سمر کیمپس کا مقصد بظاہر ثقافتی تبادلہ اور تعلیمی فروغ دکھائی دیتا ہے، لیکن پس پردہ منتظمین طلبا کی حساس معلومات اور ڈیجیٹل ڈیٹا جمع کر رہے ہیں۔ ماہرین کا خدشہ ہے کہ اس ڈیٹا کی بنیاد پر ایسی جعلی اور من گھڑت ویڈیوز تیار کی جا سکتی ہیں جو دیکھنے میں بالکل حقیقی لگتی ہیں لیکن حقیقت میں سراب ہوتی ہیں۔ ان ڈیپ فیک ویڈیوز کا بنیادی مقصد نوجوان شرکا کو بلیک میل کرنا یا ان پر دباؤ ڈالنا ہو سکتا ہے تاکہ وہ بیجنگ کے حامی سرگرمیوں میں تعاون پر مجبور ہو جائیں۔ اس طرح کے ہتھکنڈے نہ صرف ذاتی پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ نفسیاتی جنگ کی ایک خطرناک قسم ہیں جو نوجوان نسل کو نشانہ بناتی ہے۔ متعلقہ اداروں اور تائیوان کی حکومت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور اپنے نوجوانوں کو ان ممکنہ ڈیجیٹل خطرات سے بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ ماہرین نے طلبا کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ بیرون ملک تعلیمی دوروں یا سمر کیمپس میں شرکت کے دوران اپنی ذاتی معلومات کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی سے گریز کریں۔