LIVE
Loading Breaking News...

کے ایس ای 100 انڈیکس میں 533 پوائنٹس کی نمایاں کمی، پی ایس ایکس کی صورتحال

News Image
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کی وصولی اور عالمی منڈیوں میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث مندی کا رجحان دیکھا گیا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 533 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا جس سے مارکیٹ کے مجموعی حجم پر اثر پڑا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں حالیہ دنوں کے دوران زبردست تیزی کے بعد منفع کی وصولی (پرافٹ ٹیکنگ) کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے بازار حصص میں مندی دیکھی گئی۔ جمعرات کے روز کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں 533 پوائنٹس کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جو کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے احتیاطی تدابیر اور حصص کی فروخت کا نتیجہ ہے۔ عالمی منڈیوں میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال نے بھی مقامی سرمایہ کاروں کے جذبات پر منفی اثر ڈالا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، گزشتہ سیشنز میں پی ایس ایکس نے شاندار تیزی کا مظاہرہ کیا تھا اور معاشی اشاریوں میں بہتری اور مشرق وسطیٰ کے تناؤ میں کمی جیسی خبروں کی وجہ سے انڈیکس ہزاروں پوائنٹس اوپر گیا تھا۔ تاہم، مارکیٹ کے اس تیزی کے رجحان کے بعد سرمایہ کاروں نے اپنے منافع کو محفوظ بنانے کے لیے حصص فروخت کرنا شروع کر دیے، جس کو مالیاتی اصطلاح میں پرافٹ ٹیکنگ کہا جاتا ہے۔ اس قدرتی عمل کے نتیجے میں انڈیکس میں وقتی دباؤ دیکھا گیا اور تنزلی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاو اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اعلانات نے بھی سرمایہ کاروں کو سوچ بچار پر مجبور کر دیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں بہتری کے طویل المدتی آثار اب بھی موجود ہیں، لیکن قلیل مدت میں اس قسم کے اتار چڑھاؤ مارکیٹ کا معمول حصہ ہیں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی گھبراہٹ کا شکار ہونے کے بجائے معاشی بنیادوں کا بغور جائزہ لے کر اپنے فیصلے کریں۔ آنے والے دنوں میں مارکیٹ کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ملکی سیاسی اور معاشی محاذ پر کیا پیش رفت ہوتی ہے، اور ساتھ ہی بین الاقوامی اقتصادی خبریں کیا رُخ اختیار کرتی ہیں۔ اگرچہ حالیہ سیشن میں انڈیکس گرا ہے، لیکن مجموعی طور پر تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں اور سرمایہ کار بہتر مواقع کی تلاش میں مارکیٹ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔