Business
سعودی آرامکو منافع اور آبنائے ہرمز بحران - نیکسورا نیوز اردو
سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو نے ایران کے بحران اور آبنائے ہرمز میں ترسیل متاثر ہونے کے باوجود اپنے کاروباری تسلسل کو کامیابی سے برقرار رکھا ہے۔ اس مشکل صورتحال کے باوجود کمپنی کے منافع میں شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے مملکت کی معیشت کو تقویت ملی ہے۔
سعودی عرب کی سرکاری تیل اور گیس کمپنی سعودی آرامکو نے مشرق وسطیٰ میں جاری شدید جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور ایران بحران کے باوجود اپنی مالیاتی کارکردگی میں شاندار اضافہ درج کیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر توانائی کی سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والے چیلنجز بالخصوص آبنائے ہرمز کے راستے ترسیل متاثر ہونے کے باوجود آرامکو نے متبادل اقدامات کرتے ہوئے اپنے کاروباری بہاؤ کو جاری رکھا اور عالمی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن کو مستحکم رکھا۔
رپورٹس کے مطابق، آبنائے ہرمز کے راستے تیل کے بہاؤ میں نمایاں کمی کے پیش نظر آرامکو نے حکمت عملی کے تحت دوسرے متبادل راستوں اور پائپ لائنوں کا استعمال شروع کیا تاکہ عالمی خریداروں کو بلا تعطل تیل کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ اس بروقت حکمت عملی کی بدولت کمپنی نے نہ صرف سپلائی کے بحران پر قابو پایا بلکہ دوسری سہ ماہی کے دوران اپنے منافع میں بھی حیرت انگیز اضافہ ریکارڈ کیا، جس سے عالمی منڈی میں سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھ گیا ہے۔
اس مالیاتی بہتری نے سعودی عرب کی قومی معیشت اور مالیاتی ڈھانچے کو بھی زبردست سہارا فراہم کیا ہے۔ مملکت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اس آمدنی کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے حکومت کے معاشی تنوع کے پروگراموں کو فنڈز کی فراہمی میں مدد ملتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بحران کے باوجود اتنی بڑی کامیابی حاصل کرنا آرامکو کی مضبوط مینجمنٹ اور بہترین لچکدار پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے خطے کے دیگر ممالک کے لیے توانائی کی برآمدات کو مشکل بنا دیا ہے، لیکن آرامکو کے متبادل ذرائع نے ثابت کر دیا ہے کہ سعودی عرب بڑی معاشی رکاوٹوں سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ توانائی کا یہ سب سے بڑا ادارہ ہر قسم کے ہنگامی حالات سے نبردآزما ہونے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔