Politics
سابق نو نازی کارکن جوشوا بون ہل پین کی بطور ٹوری امیدوار نامزدگی پر ہنگامہ
برطانیہ میں ایک سابق نو نازی کارکن کو ٹوری پارٹی کا امیدوار منتخب کیے جانے پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ جوشوا بون ہل پین کو سنہ 2015 میں یہود دشمن ریمارکس پوسٹ کرنے پر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
برطانیہ کی سیاسی فضا میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب یہ بات سامنے آئی کہ ایک سابق نو نازی کارکن کو کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے امیدوار کے طور پر منتخب کر لیا گیا ہے۔ اس متنازعہ فیصلے کے بعد برطانوی سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے اور پارٹی قیادت کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس امیدوار کا نام جوشوا بون ہل پین ہے، جنہیں ماضی میں قانون کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جوشوا بون ہل پین کو سنہ 2015 میں ایک احتجاجی مظاہرے سے قبل آن لائن یہود دشمن ریمارکس پوسٹ کرنے کے جرم میں باقاعدہ جیل بھیجا گیا تھا۔ ان کے اس ماضی کی وجہ سے اب سیاسی حریف اور سماجی تنظیمیں سوال اٹھا رہی ہیں کہ اتنے متنازعہ پس منظر کے حامل شخص کو کس طرح ٹکٹ جاری کیا گیا۔
کنزرویٹو پارٹی کے اندر اور باہر اس نامزدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے عناصر کو سیاسی دھارے میں شامل کرنا معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے اور اس سے سیاسی جماعتوں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ دوسری جانب پارٹی حکام اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس نامزدگی کے حوالے سے مزید وضاحتیں طلب کی جا رہی ہیں تاکہ صورتحال کو واضح کیا جا سکے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیاسی جماعتوں کی طرف سے امیدواروں کے پس منظر کی جانچ پڑتال کے عمل پر پہلے ہی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ اس تنازعے کے بعد برطانوی سیاست میں ایک بار پھر یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ انتخابی امیدواروں کے انتخاب کے دوران اخلاقی اور قانونی پس منظر کو کتنی اہمیت دی جانی چاہیے۔