Business
آبنا ہرمز کی بندش: تیل کمپنیوں کے ریکارڈ منافع کی وجوہات
آبنا ہرمز کی بندش اور تنازعات کے تناظر میں بڑی تیل کمپنیوں نے تاریخ ساز مالیاتی منافع کمایا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اس مالیاتی اضافے کی بنیادی وجہ قرار دی جا رہی ہیں۔
عالمی توانائی کے منظر نامے میں حالیہ کشیدگی اور ایران کے گرد منڈلاتے جنگی بادلوں کے نتیجے میں بڑی تیل کمپنیوں نے انتہائی خطیر اور ریکارڈ ساز منافع حاصل کیا ہے۔ آبنا ہرمز، جو کہ دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، اس وقت بندش کا شکار ہے یا وہاں رسد کے شدید مسائل درپیش ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی منڈی میں خام تیل کی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے براہ راست اثرات توانائی کی قیمتوں پر مرتب ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، جب بھی جغرافیائی سیاسی کشیدگی یا جنگی حالات کی وجہ سے اہم تجارتی راستے بند ہوتے ہیں، تو اس کے نتیجے میں مارکیٹ میں قلت کا تاثر ابھرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی ملٹی نیشنل آئل کمپنیوں نے سپلائی میں خلل کے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے منافع کے مارجن میں ہوشربا اضافہ کیا ہے۔ تیل کی بلند قیمتوں نے ان کارپوریشنز کے ریونیو کو آسمان پر پہنچا دیا ہے، جبکہ عام صارفین اور درآمدی ممالک کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور اقتصادی ماہرین کی طرف سے ان بلند منافع جات پر کڑی تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ صارفین کے حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ بحران کے اس دور میں جہاں عام عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دب رہی ہے، وہیں انرجی سیکٹر کے بڑے کھلاڑی اس صورتحال کا استحصال کر کے اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں۔ حکومتوں اور عالمی ضابطہ کار اداروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور کمپنیوں کے اس ریکارڈ منافع کا از سر نو جائزہ لیں۔
مستقبل کے حوالے سے یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اگر آبنا ہرمز کی بندش یا جنگی تناؤ طویل عرصے تک جاری رہا، تو عالمی معیشت کو مزید شدید دھچکے لگ سکتے ہیں۔ تیل کمپنیاں اگرچہ قلیل مدت میں زبردست مالی منافع سمیٹ رہی ہیں، لیکن طویل مدتی بنیادوں پر توانائی کے متبادل ذرائع اور عالمی تجارتی استحکام کے لیے یہ صورتحال انتہائی چیلنجنگ بنتی جا رہی ہے۔