LIVE
Loading Breaking News...

کراچی میں پانچ ہزار کے جعلی نوٹوں کی بھرمار، شہریوں کے لیے انتباہ

News Image
کراچی کے مختلف تجارتی مراکز اور مارکیٹوں میں پانچ ہزار روپے کے جعلی کرنسی نوٹوں کی موجودگی میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاجروں اور دکانداروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مالی لین دین کے دوران نوٹوں کی جانچ پڑتال کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کریں۔
کراچی کے مختلف تجارتی حب اور بازاروں میں پانچ ہزار روپے کے جعلی کرنسی نوٹوں کی گردش میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد عام شہریوں اور دکانداروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں مارکیٹ کے اندر بڑے مالیت کے کرنسی نوٹوں کے ذریعے دھوکہ دہی کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں، جہاں نوسرباز اور جعل ساز بڑی مہارت کے ساتھ اصلی نوٹوں میں جعلی نوٹ ملا کر شہریوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس صورتحال نے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے جو روزمرہ کے کاروبار میں نقد لین دین کے دوران شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہیں۔ ماہرین اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے دکانداروں اور خریداروں کو پرزور مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے روزمرہ کے مالی معاملات میں انتہائی احتیاط سے کام لیں۔ پانچ ہزار روپے کے نوٹ کی لین دین کے دوران اس کے واٹر مارک، سیکیورٹی دھاگے اور دیگر حفاظتی علامات کی فوری جانچ پڑتال کرنا بے حد ضروری ہو چکا ہے۔ بازاروں میں اس طرح کی جعل سازی کے پھیلاؤ کی وجہ سے کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات پڑ رہے ہیں، کیونکہ دکاندار اب بڑی رقم وصول کرنے سے کترانے لگے ہیں یا پھر ہر نوٹ کو الگ سے چیک کرنے پر مجبور ہیں۔ تجارتی تنظیموں اور مارکیٹ کمیٹیوں نے بھی اس سنگین معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اپنے اکانٹس اور ممبران کو خبردار کیا ہے کہ وہ نامعلوم افراد کے ساتھ مالی لین دین میں پوری مستعدی کا مظاہرہ کریں۔ اس حوالے سے یہ بھی زور دیا جا رہا ہے کہ مارکیٹوں میں کرنسی چیک کرنے والی الیکٹرانک مشینوں یا یووی لیمپ کا استعمال بڑھایا جائے تاکہ کسی بھی بڑے نقصان سے بروقت بچا جا سکے۔ عوام کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مرکزی بینک کو اس معاملے پر فوری کارروائی کرنی چاہیے تاکہ ان جعلی نوٹوں کو مارکیٹ میں لانے والے اصل نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے اور معاشی استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ اس دوران شہریوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک صورتحال میں فوری طور پر متعلقہ حکام کو مطلع کریں تاکہ اس غیر قانونی دھندے کا سدباب ممکن ہو سکے۔