Technology
اے آئی ڈیٹا کی ملکیت اور سیکیورٹی خطرات: ایک اہم تجزیہ
مصنوعی ذہانت کے اوزار استعمال کرنے والی کمپنیاں اکثر چھپے ہوئے مالی اور سیکیورٹی اخراجات کا شکار ہو رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو ستیہ نڈیلا نے خبردار کیا ہے کہ کاروباری اداروں کو اے آئی ٹولز کی قیمت دو بار چکانا پڑتی ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے دور میں کاروباری اداروں کے لیے یہ جاننا انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ ان کا ڈیٹا کس کی ملکیت ہے۔ ماہرین کے مطابق اے آئی کا حقیقی خرچہ صرف سافٹ ویئر کی خریداری تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے اندرونی خطرات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ حالیہ عرصے میں مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو ستیہ نڈیلا نے انتباہ جاری کیا تھا کہ کمپنیاں جو مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کرتی ہیں، انہیں دراصل دوہری قیمت چکانی پڑتی ہے۔ پہلی قیمت ٹولز کے حصول کی صورت میں جبکہ دوسری قیمت ڈیٹا سیکیورٹی اور رازداری کے خطرات کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ کاروباری دنیا میں یہ سوال اب سب سے اہم بن چکا ہے کہ کیا انٹرپرائزز کا خفیہ اور حساس ڈیٹا محفوظ ہاتھوں میں ہے؟
جب کمپنیاں اپنے روزمرہ کے امور میں اے آئی ماڈلز کو مربوط کرتی ہیں تو بڑی مقدار میں ڈیٹا ان سسٹمز میں فیڈ کیا جاتا ہے۔ ان سسٹمز کی تربیت اور بہتری کے لیے اکثر ڈیٹا کو کلاؤڈ سرورز پر منتقل کیا جاتا ہے جس سے ڈیٹا کے چوری ہونے یا غیر مجاز رسائی کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ ملکیتی حقوق (Proprietary Rights) کا معاملہ بھی اس تناظر میں انتہائی پیچیدہ ہے۔ بہت سے کاروباری ادارے اس بات سے لاععلم ہوتے ہیں کہ جب وہ کسی تیسرے فریق کی اے آئی سروس استعمال کرتے ہیں، تو ان کے اپنے تیار کردہ کاروباری راز اور کسٹمر کا ڈیٹا کس حد تک محفوظ رہتا ہے اور آیا وہ سروس فراہم کرنے والے کے ماڈل کی تربیت کا حصہ بن رہا ہے یا نہیں۔
ان خطرات سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر کی کمپنیاں اب سخت ترین سیکیورٹی پروٹوکولز اور ڈیٹا گورننس پالیسیاں وضع کر رہی ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ کاروباری اداروں کو چاہیے کہ وہ اے آئی وینڈیئرز کے ساتھ معاہدے کرتے وقت ڈیٹا کی ملکیت اور رازداری کے شقوں کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔ اس کے علاوہ، مقامی سرورز اور پرائیویٹ اے آئی ماڈلز کا استعمال بھی سیکیورٹی کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ شفافیت اور محتاط حکمت عملی ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ادارے اے آئی کے فوائد تو سمیٹ سکتے ہیں لیکن اس کے ممکنہ نقصانات اور ملکیتی تنازعات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔