LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں مینوفیکچرنگ سرگرمیوں میں چار سالہ اضافہ

News Image
امریکہ میں مینوفیکچرنگ سرگرمیاں جولائی کے دوران چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ انسٹی ٹیوٹ فار سپلائی مینجمنٹ کا انڈیکس توقعات سے زیادہ بڑھ کر 55.6 فیصد ہو گیا۔
امریکہ سے موصول ہونے والی اقتصادی رپورٹس کے مطابق ملک میں مینوفیکچرنگ سرگرمیوں میں جولائی کے دوران نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور یہ سرگرمیاں چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ فار سپلائی مینجمنٹ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس کی مینوفیکچرنگ انڈیکس میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ توقعات سے بھی زیادہ نکلا ہے۔ معاشی ماہرین اس پیش رفت کو مثبت قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس سے طویل عرصے سے سست روی کا شکار صنعتی شعبے میں جان پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، انسٹی ٹیوٹ فار سپلائی مینجمنٹ کا انڈیکس بڑھ کر پچپن اعشاریہ چھ فیصد پر جا پہنچا ہے۔ اس بڑی بہتری کی بنیادی وجہ نئی ملکی اور غیر ملکی آرڈرز میں اضافہ اور پیداواری صلاحیت کا بہتر استعمال بتایا جا رہا ہے۔ صنعت کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ مہنگائی اور دیگر عالمی چیلنجز اب بھی موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود طلب میں استحکام نے فیکٹری مالکان کو کچھ ریلیف فراہم کیا ہے اور وہ مستقبل کے بارے میں زیادہ پرامید نظر آ رہے ہیں۔ اس معاشی سروے کا ایک اور اہم پہلو مینوفیکچرنگ کے شعبے میں روزگار کی صورتحال ہے، جو کہ طویل عرصے کے بعد ایک بار پھر توسیع کے علاقے میں داخل ہو گئی ہے۔ تقریباً تین سال میں پہلی بار فیکٹریوں میں ملازمین کی بھرتی اور روزگار کے مواقع میں خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ لیبر مارکیٹ کے لیے یہ ایک حوصلہ افزا خبر ہے، کیونکہ اس سے صنعتی مزدوروں اور انجینئرز کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔ اس تبدیلی سے بے روزگاری کے خدشات میں کمی واقع ہوئی ہے اور ہنر مند افراد کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، ان تمام مثبت اشاریوں کے باوجود ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ معیشت کو لے کر غیر یقینی صورتحال اب بھی برقرار ہے۔ عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی، سپلائی چین کے مسائل اور مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسیوں کے اثرات طویل المدتی بنیادوں پر مارکیٹ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے کاروباری حلقے اور سرمایہ کار انتہائی محتاط انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ جھٹکے سے بچا جا سکے۔