LIVE
Loading Breaking News...

کم عمر میں سوشل میڈیا کا استعمال اور تعلیمی نقصان پر نئی تحقیق

News Image
ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جو بچے گیارہ سال کی عمر میں ٹک ٹاک اور انسٹاگرام استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں، وہ جی سی ایس ای کے امتحانات تک تعلیمی لحاظ سے چھ ماہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ کم عمر میں سوشل میڈیا کا کثرت سے استعمال طلبہ کی پڑھائی اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
ایک تازہ ترین علمی تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ بچے جو گیارہ سال کی کم عمر میں ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال شروع کر دیتے ہیں، وہ اپنی ثانوی تعلیم کے آخری سالوں یعنی جی سی ایس ای (GCSE) کے امتحانات تک تعلیمی لحاظ سے تقریباً چھ ماہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ محققین نے اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا پر زیادہ وقت صرف کرنے والے طلبہ اپنی پڑھائی اور تعلیمی اہداف پر پوری طرح توجہ مرکوز نہیں کر پاتے۔ اس تحقیق کے دوران پانچ ہزار سے زائد طلبہ کی تعلیمی ترقی اور سوشل میڈیا کے استعمال کی عادات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، جس سے یہ پریشان کن حقائق سامنے آئے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نوعمری کا وہ دور جب بچوں کو اپنی تعلیمی بنیادیں مضبوط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اس وقت کا بیشتر حصہ اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی توجہ کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے اور وہ کلاس روم میں پڑھائے جانے والے اسباق کو سمجھنے میں مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ والدین اور اساتذہ کو بچوں کی ڈیجیٹل مصروفیات پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر مڈل اسکول یا اس سے کم عمر کے بچوں کو سوشل میڈیا کی لت سے بچانا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ تعلیمی اداروں اور گھروں میں ایسے ضابطہ کار بنائے جائیں جو بچوں کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھیں اور انہیں اپنی پڑھائی پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینے کا موقع فراہم کریں۔