LIVE
Loading Breaking News...

لیڈوس کا امریکی بحریہ کے ساتھ نیا معاہدہ، انٹیلی جنس نظام مزید جدید ہوں گے

News Image
معروف دفاعی اور تکنیکی ادارہ لیڈوس امریکی بحریہ کے دنیا بھر میں موجود محفوظ انٹیلی جنس سسٹمز کی جدید کاری کا کام جاری رکھے گا۔ اس سلسلے میں کمپنی کو نیول انٹیلی جنس کے دفتر کی جانب سے 64.8 ملین ڈالر تک کا نیا ٹھیکہ ملا ہے۔
ریسٹن، ورجینیا: معروف سائنس اور ٹیکنالوجی کی حامل کمپنی لیڈوس نے دنیا بھر میں امریکی بحریہ کے محفوظ انٹیلی جنس سسٹمز کی بنیادی ڈھانچے کو مزید جدید اور طاقتور بنانے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے کمپنی کو امریکی دفتر برائے نیول انٹیلی جنس کی جانب سے ایک اہم اور گراں قدر معاہدہ ملا ہے جس کی مالیت 64.8 ملین ڈالر تک بتائی جاتی ہے۔ اس معاہدے کے تحت لیڈوس اپنی جدید ترین تکنیکی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بحریہ کے انٹیلی جنس نیٹ ورکس کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کرے گی۔ اس معاہدے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سمندری حدود اور عالمی سطح پر سکیورٹی کے امور پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ امریکی بحریہ کے انٹیلی جنس سسٹمز کو ہمیشہ سے ہی انتہائی حساس نوعیت کی معلومات کے تحفظ اور بروقت ترسیل کے لیے ایک فول پروف ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیڈوس کا طویل تجربہ اور تکنیکی مہارت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تمام بحری جہاز، ساحلی تنصیبات اور کمانڈ سینٹرز ایک دوسرے کے ساتھ محفوظ اور بلا تعطل رابطے میں رہیں۔ کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ اس طویل المدتی شراکت داری کا تسلسل ہے جو لیڈوس اور امریکی بحریہ کے درمیان برسوں سے چلی آ رہی ہے۔ اس فنڈنگ اور نئے منصوبے کے ذریعے نہ صرف موجودہ سسٹمز کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے سائبر سکیورٹی کے جدید ترین معیارات بھی نافذ کیے جائیں گے۔ جدید ڈیجیٹل دور میں انٹیلی جنس آپریشنز کی رفتار اور درستگی ہی کسی بھی فوج کی کامیابی کی ضامن ہوتی ہے، اور لیڈوس اس شعبے میں اہم ترین کردار ادا کر رہا ہے۔