Business
سعودی آرامکو کا منافع امریکہ ایران جنگ کے بعد 33 فیصد بڑھ گیا
امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس سے سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کے منافع میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس بڑی مالیاتی کامیابی سے سعودی معیشت اور سرکاری خزانے کو شدید بحران کے دوران زبردست تقویت ملی ہے۔
ریاض (نیکسٹورا نیوز اردو) امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور خلیج میں پیدا ہونے والے بحران کے منفی اثرات جہاں دنیا بھر پر مرتب ہوئے ہیں، وہیں یہ صورتحال سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو کے لیے انتہائی سود مند ثابت ہوئی ہے۔ تازہ ترین مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق دوسری سہ ماہی کے دوران سعودی آرامکو کے منافع میں 33 فیصد تک کا نمایاں اور شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تیل کی سپلائی میں کمی اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے اچھال نے کمپنی کے مالیاتی ریکارڈ کو ایک نئی بلندی پر پہنچا دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب پیدا ہونے والی کشیدگی نے تیل کی رسد کو شدید متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی۔ اس بلند قیمت اور سازگار مارکیٹ کے ماحول کی بدولت آرامکو نے اربوں ڈالر کا بھاری بھرکم منافع کمایا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس منافع سے سعودی عرب کے مالیاتی ذخائر اور ملکی خزانے کو ایک بڑی اور فوری تقویت ملی ہے، جو کہ مملکت کے وژن 2030 کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی انتہائی مددگار ثابت ہوگی۔
اس خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باوجود سعودی آرامکو نے اپنی پیداواری صلاحیت اور ترسیل کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھا ہے۔ ہرمز کے بحران جیسی رکاوٹیں بھی کمپنی کے منافع کے اس پے در پے اضافے کو روکنے میں ناکام رہی ہیں۔ ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے مابین موجودہ تناؤ برقرار رہتا ہے، تو آنے والے مہینوں میں تیل کی عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ جاری رہے گا، جس سے توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے مالیاتی نتائج پر مزید گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔