World
غزہ میں 112 شہید فلسطینیوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کی گئی
غزہ سٹی میں حالیہ جنگ کے دوران ہونے والی سب سے بڑی اجتماعی جنازوں میں سے ایک میں ہزاروں سوگواران نے شرکت کی۔ فلسطینی پرچموں میں لپٹے ہوئے 112 شہداء کے جسدِ خاکی کو سڑکوں سے گزارا گیا۔
غزہ سٹی میں حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کے سب سے بڑے اور اندوہناک اجتماعات میں سے ایک منعقد ہوا، جہاں ہزاروں افراد نے اسرائیلی بمباری اور کارروائیوں میں شہید ہونے والے 112 فلسطینیوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ اس موقع پر فضا انتہائی سوگوار تھی اور ہر آنکھ اشک بار دکھائی دی۔ شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے ان شہداء کے جنازوں میں شرکت کی تاکہ اپنے پیاروں کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں۔
شہداء کے جسدِ خاکی کو روایتی طور پر فلسطینی پرچموں میں لپیٹ رکھا تھا، جنہیں غزہ کی تباہ حال سڑکوں اور گلیوں سے سوگواران کے کاندھوں پر اٹھا کر منزلِ مقصود تک لایا گیا۔ جنازے کے اس بڑے جلوس میں بچوں، بزرگوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے اس مشکل ترین وقت میں بھی اپنے اتحاد اور استقامت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ شہداء کے ورثا اور شرکائے جنازہ کا کہنا تھا کہ ظلم و بربریت کے باوجود وہ اپنے وطن اور حقوق کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
واضح رہے کہ غزہ میں جاری شدید ترین تنازعے کے نتیجے میں روزانہ کی بنیاد پر انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے، اور طبی نظام کی تباہی کے باعث شہداء کی تدفین اور اجتماعی جنازے بھی اب انتہائی کٹھن مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس اجتماعی جنازے میں شرکت کرنے والے افراد نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اس فوری خون خرابے کو رکوانے کے لیے اپنا عملی کردار ادا کریں تاکہ مزید معصوم جانوں کو بچایا جا سکے۔