Pakistan
وزیراعظم پاکستان کا وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا حکم
وزیراعظم شہباز شریف نے محسن نقوی کے ریمارکس کے بعد تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز سے کارکردگی رپورٹس طلب کر لی ہیں۔ اس جامع جائزے کے دوران 32 وزارتوں کی کارکردگی اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کی حالیہ گفتگو اور ریمارکس کے بعد تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کی کارکردگی کا از سر نو جائزہ لینے کی سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے تمام متعلقہ وزارتوں کو فوری طور پر اپنی تفصیلی کارکردگی رپورٹس جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ حکومتی امور میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اعلیٰ سطح پر ہونے والی ملاقاتوں اور حکومتی امور کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
اس نئے اور سخت جانچ پڑتال کے عمل میں کل 32 وفاقی وزارتوں اور ان کے ماتحت ڈویژنز کی کارکردگی کا احاطہ کیا جائے گا۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ہر وزارت کو اپنے اہداف، پالیسیوں پر عملدرآمد اور عوام کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی مکمل تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔ اس کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ موجودہ حکومت کی ترجیحات کے مطابق تمام ادارے کتنی تندہی سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
جائزے کا ایک اہم ترین پہلو ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی جانچ پڑتال ہوگا۔ حکومت کی جانب سے یہ سختی کی گئی ہے کہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں اور ترقیاتی بجٹ کا ایک ایک روپیہ درست سمت میں خرچ ہو۔ اس امر کا خصوصی جائزہ لیا جائے گا کہ آیا مختص کردہ فنڈز بروقت استعمال ہوئے ہیں یا نہیں اور ان کے نتیجے میں عوامی سطح پر کتنے مثبت اور پائیدار اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق وزیر اعظم کی طرف سے یہ قدم شفافیت کو فروغ دینے اور بیوروکریسی میں سستی کو ختم کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ جن وزارتوں کی کارکردگی تسلی بخش پائی جائے گی انہیں سراہا جائے گا جبکہ ناقص کارکردگی یا فنڈز کے درست استعمال میں ناکامی پر متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی متوقع ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اس عمل کے ذریعے معاشی و انتظامی اصلاحات کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے احسن طریقے سے نپٹا جا سکے۔