LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی تصاویر کی نمائش: بلفاسٹ گیلری کو شدید تنقید کا سامنا

News Image
بلفاسٹ کی ایک فوٹوگرافی گیلری کو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر کی نمائش کرنے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ فنکار جونی شیریڈن کی جانب سے پیش کردہ اے آئی تصاویر پر مقامی فنکاروں اور فوٹوگرافرز نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔
برطانیہ کے شہر بلفاسٹ کی ایک معروف فوٹوگرافی گیلری اس وقت شدید تنازع کی زد میں آ گئی جب اس نے ایک ایسی نمائش کا انعقاد کیا جس میں روایتی فوٹوگرافی کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ تصاویر بھی شامل تھیں۔ اس نمائش کے دوران فنکار جونی شیریڈن کی جانب سے پیش کی جانے والی اے آئی تصاویر نے مقامی فنکاروں اور فوٹوگرافرز کی توجہ حاصل کی، تاہم یہ توجہ تحسین کی بجائے شدید تنقید اور برہمی میں بدل گئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فوٹوگرافی گیلری کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی تصاویر کو جگہ دینا روایتی فن اور فوٹوگرافرز کی محنت کی توہین ہے۔ اس واقعے کے بعد آرٹ کی دنیا میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت سے تخلیق کردہ مواد کو باقاعدہ فن کا درجہ دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ناقدین کا موقف ہے کہ اے آئی جنریٹڈ تصاویر میں انسانی جذبات، محنت اور تکنیکی مہارت کا وہ عنصر شامل نہیں ہوتا جو ایک حقیقی فوٹوگراف میں پایا جاتا ہے۔ گیلری کے اس فیصلے پر سوشل میڈیا اور مقامی فنکار برادری کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، اور منتظمین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ اس قسم کے فیصلوں میں زیادہ احتیاط سے کام لیں۔ دوسری جانب، گیلری انتظامیہ اور نمائش میں حصہ لینے والے فنکاروں کا اپنے دفاع میں کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت جدید دور کا ایک حقیقت ہے اور فنکارانہ اظہار کا ایک نیا ذریعہ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں فن کے دائرہ کار کو محدود نہیں کیا جا سکتا بلکہ نئے اور ابھرتے ہوئے میڈیمز کو بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس قسم کے مباحث دنیا بھر میں جاری ہیں جہاں روایتی فنکار اور اے آئی آرٹسٹ آمنے سامنے ہیں، اور بلفاسٹ کا یہ واقعہ اس عالمی بحث کا ایک نیا حصہ بن گیا ہے۔