LIVE
Loading Breaking News...

امریکی وائٹ ہاؤس کا مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز کیلئے رضاکارانہ حفاظتی ٹیسٹ کا اعلان

News Image
وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق امریکی انتظامیہ نے مصنوعی ذہانت کے انتہائی جدید ماڈلز کی ہیکنگ کی صلاحیتوں کی جانچ کے لیے رضاکارانہ سائبر سیکیورٹی ٹیسٹس کے طریقہ کار کو حتمی شکل دے دی ہے۔ یہ اہم قدم معروف اے آئی کمپنیوں کی جانب سے ٹیکنالوجی کی حفاظتی تفصیلات سامنے لانے کے چند روز بعد اٹھایا گیا ہے۔
واشنگتن میں وائٹ ہاؤس کے ایک ذمہ دار عہدیدار نے پیر کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے مصنوعی ذہانت (AI) کے انتہائی طاقتور اور جدید ترین ماڈلز کی سیکیورٹی جانچنے کے لیے رضاکارانہ سائبر سیکیورٹی ٹیسٹوں کو مکمل طور پر حتمی شکل دے دی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد جدید ترین اے آئی سسٹمز کی ہیکنگ صلاحیتوں کا اندازہ لگانا اور ممکنہ سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کرنا ہے۔ اس پیشرفت کا مقصد ٹیکنالوجی کی ترقی کو محفوظ بنانا اور دنیا بھر میں پیدا ہونے والے حفاظتی خدشات کا سدباب کرنا ہے۔ یہ اہم فیصلہ معروف مصنوعی ذہانت کی ترقیاتی کمپنیوں جیسے کہ اینتھروپک (Anthropic) اور اوپن اے آئی (OpenAI) کی جانب سے اپنی حالیہ ٹیکنالوجی کی حفاظتی تفصیلات اور رپورٹس عام کرنے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ ان کمپنیوں کے اقدامات کے بعد حکومتی سطح پر بھی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے حوالے سے ضابطہ کار اور شفافیت لانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا تھا، جس کے پیش نظر وائٹ ہاؤس نے اس رضاکارانہ ٹیسٹنگ فریم ورک کو حتمی شکل دی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگرچہ یہ ٹیسٹ فی الحال رضاکارانہ نوعیت کے ہیں، لیکن یہ مستقبل میں عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے سخت ضابطے اور معیارات طے کرنے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی انڈسٹری میں بڑھتے ہوئے مقابلوں اور سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں، حکومت کا یہ قدم اے آئی کی محفوظ اور ذمہ دارانہ ترقی کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں اس کے مزید مثبت یا منفی اثرات سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔