LIVE
Loading Breaking News...

خلائی شہاب ثاقب کو ایٹمی دھماکے سے تباہ کرنے کی نئی تحقیق سامنے آ گئی

News Image
سائنسدانوں کی نئی سمیولیشنز سے انکشاف ہوا ہے کہ زمین کی طرف بڑھتے ہوئے خطرناک شہاب ثاقب کو ایٹمی دھماکے کے ذریعے کامیابی سے روکا جا سکتا ہے۔ 1998 کی مشہور ہالی ووڈ فلم 'آرماجیڈن' کا یہ خیال اب سائنسی اعتبار سے درست ثابت ہو رہا ہے۔
سنہ 1998 میں ریلیز ہونے والی ہالی ووڈ کی مشہور سائنس فکشن فلم 'آرماجیڈن' (Armageddon) نے سائنسی حلقوں میں کافی تنقید کا سامنا کیا تھا کیونکہ اس فلم میں دکھایا گیا تھا کہ زمین کی طرف آنے والے ایک بہت بڑے شہاب ثاقب یا ایسٹرائڈ کو تباہ کرنے کے لیے اس کے اندر ایٹمی بم نصب کیا جاتا ہے۔ اس وقت ماہرین فلکیات نے اسے ایک ناممکن اور سائنسی طور پر غلط خیال قرار دیا تھا۔ تاہم، تقریباً تین دہائیوں کے بعد جدید ترین سائنسی سمیولیشنز اور کمپیوٹر ماڈلز نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ فلمی کہانی حقیقت کا روپ دھار سکتی ہے اور یہ طریقہ کار خلائی خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ حال ہی میں کی جانے والی ایک جدید تحقیق کے مطابق، اگر کوئی بہت بڑا خلائی پتھر زمین کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہو اور روایتی طریقوں سے اس کا رخ نہ بدلا جا سکے، تو اس کے اندر گہرائی میں جا کر ایک طاقتور ایٹمی دھماکہ کرنا انتہائی موثر حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ سائنسدانوں نے اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے کہ دھماکے کی شدت سے پیدا ہونے والی توانائی کس طرح شہاب ثاقب کے اندرونی ساخت کو توڑ سکتی ہے اور اس کے بڑے ٹکڑوں کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر سکتی ہے تاکہ وہ زمین کے ماحول میں داخل ہو کر جل جائیں یا زمین پر گرنے سے گریز کریں۔ اس تحقیق سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار اگرچہ انتہائی پیچیدہ ہے اور اس کے لیے بے مثال خلائی انجینئرنگ درکار ہے، لیکن اب یہ ناممکن نہیں رہا۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اب ہم شہاب ثاقب کی ساخت، اس کی کثافت اور رفتار کا درست تخمینہ لگا سکتے ہیں، جس سے ایٹمی دھماکے کے وقت اور مقام کا درست تعین کیا جا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت مستقبل میں انسانیت کو کسی بھی بڑے آفت سے بچانے کے لیے ایک دفاعی ڈھال کے طور پر کام کر سکتی ہے۔