World
ترکیہ کا روس اور یوکرین سے بحرِ اسود کی سیکیورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ
ترکیہ نے بحرِ اسود میں حالیہ ڈرون حملے کے بعد روس اور یوکرین پر زور دیا ہے کہ وہ اس اہم آبی راستے کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں۔ انقرہ نے تمام فریقین سے احتیاط برتنے اور بحری سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔
ترکیہ نے حالیہ بحرِ اسود میں ہونے والے ایک ڈرون حملے کے بعد روس اور یوکرین پر زور دیا ہے کہ وہ اس اہم بحری گزرگاہ کی حفاظت اور سلامتی کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ انقرہ حکومت کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور بین الاقوامی بحری تجارت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ترکیہ جو کہ خطے کا ایک اہم ملک ہونے کے ناطے دونوںممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے، شروع سے ہی جنگ کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ترکیہ کے متعلقہ حکام نے ماسکو اور کیف دونوں پر واضح کیا ہے کہ بحرِ اسود میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا تمام فریقین کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ ڈرون حملوں کے تازہ واقعات نے اس آبی راستے کے ذریعے ہونے والی خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی نقل و حرکت پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ ترکیہ نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جس سے بحری سلامتی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔ عالمی برادری بھی بحرِ اسود میں سیکیورٹی کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ یہ خطہ دنیا بھر میں اناج کی فراہمی کے حوالے سے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انقرہ کی جانب سے یہ تازہ ترین سفارتی کوشش اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ ترکیہ اس تنازع کے پرامن حل اور بحری راستوں کی حفاظت کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بحرِ اسود میں کشیدگی کم نہ ہوئی تو اس کے عالمی معیشت اور سپلائی چین پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔