LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس اور غزہ انخلاء پر اسرائیل کو یقین دہانی

News Image
ٹرمپ کے بورڈ آف پیس نے تل ابیب کے اعتراضات کے بعد واضح کیا ہے کہ حماس کے ہتھیار ڈالنے تک غزہ سے کوئی اسرائیلی انخلاء نہیں ہوگا۔ اس پیش رفت کے بعد خطے میں امن کی نئی کوششوں اور سکیورٹی خدشات پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس نے حماس کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدے اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کے حوالے سے اسرائیل کے تمام سنگین خدشات کو دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تل ابیب کی جانب سے غزہ کے مستقبل اور فوجی انخلاء پر شدید اعتراضات سامنے آنے کے بعد یہ سفارتی پیشرفت ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بورڈ آف پیس نے واضح کیا ہے کہ جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہو جاتی، تب تک غزہ سے کسی بھی قسم کا اسرائیلی انخلاء عمل میں نہیں لایا جائے گا۔ یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتنیاہو کی حکومت کی طرف سے اس منصوبے پر محتاط خاموشی اور شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ مبصرین کے مطابق حماس کے ہتھیار ڈالنے کی شرط کو امن معاہدے کی بنیادی بنیاد بنایا گیا ہے تاکہ اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے، تاہم اس کے باوجود غزہ میں فضائی حملوں اور عسکری کارروائیوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بورڈ آف پیس کے نمائندوں اور اسرائیلی قیادت کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقاتوں میں سکیورٹی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد اسرائیل کے تحفظات میں کچھ کمی آئی ہے۔ دوسری جانب فلسطینی علاقوں میں شدید بمباری کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہو چکا ہے اور عالمی برادری کی جانب سے مستقل جنگ بندی کے مطالبات بھی زور پکڑ رہے ہیں۔ اس پورے تناظر میں ٹرمپ کا بورڈ آف پیس خطے میں ایک متوازن اور قابل عمل لائحہ عمل تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو فریقین کے درمیان پائیدار امن کی راہ ہموار کر سکے، تاہم زمینی حقائق اور حماس کے ردعمل کے پیش نظر آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔